بسمہ تعالیٰ
اداریہ
الحمد للہ رب العالمین و الصلوة و السلام علی خیر خلقہ اجمعین اما بعد فقد قال اللہ تعالی: ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب۔ (سورہ حج، آیت ۳۲)
ترجمہ:‘‘ جوشخص شعائر اللہ کا احترام کرے یہ احترام تقویٰ قلب کی علامت ہے۔’’
ارباب تفاسیر نے شعائر اللہ کی تفسیر میں مختلف آرا ء ذکر فرمائی ہیں۔ چنانچہ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ شعائر جمع ہے شعیرہ کی اور شعیرہ کا معنی علامت اور نشانی ہے۔ بنابر این شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیاں اور ہر وہ چیز جوانسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرے وہ شعائر اللہ کی مصداق ہے اور اسکی تعظیم تقوای قلب کی علامت ہے۔
اس تفسیر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور قربانی بھی شعائر اللہ کی مصداق ہے اور اس کی تعظیم تقویٔ قلب کی علامت، اور قربانی حسینؑ کی تعظیم کا بہترین ذریعہ، عزاداریٔ امام حسینؑ اور اس عزاداری کی تعظیم و احترام انسان کے دل اور روح کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے تاریخ کربلا کے ایک ایک قرطاس کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یقینا ہر ہر ورق میں بحر ہدایت متلاطم و موج زن نظر آئے گا جو ہر روشن فکر انسان کو دعوت فکر و عمل دے رہا ہے جس طرح قرآن مجید کے دو رخ (ظاہر و باطن) ہیں اسیطرح کربلا کے بھی دو رخ ہیں ایک ظاہر دوسرا باطن۔ عزادار حقیقی کربلا کے دونوں پہلؤں پر عمل پیرا ہوکر ہی منزل کمال تک پہنچ سکتا ہے ۔
امام حسینؑ کے غم میں مجلس کا اہتمام ، آپ کی مصیبت یاد کرکے گریہ و زاری کرنا،تعزیہ داری و ماتمی جلوس وغیرہ کربلا کے ظاہری پہلو ہیں۔
ایثار، عبادت، جذبہ قربانی، صبر و استقامت، جذبہ وفاداری، امر بالمعروف و نہی از منکر اور شھادت وغیرہ کربلا کے باطنی پہلو ہ ہر عزادار کا فرض ہیکہ کربلا کے ظاہری پہلو پر عمل کے ساتھ ساتھ کربلا کے باطنی پہلو پر بھی عمل کرنے کی کوشش کرے تاکہ سعادت ابدی حاصل کر سکے۔
الجواد فاؤنڈیشن نے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سوانح حیات پر مشتمل مجلہ نشر کرکے کربلا کے دونوں پہلؤں پر مختصر مگر مفید روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ فرمان معصومؑ کے تحت امر اہل بیت کو احیاء کرنے کی ناچیز کوشش کی ہے یقینا عزاداریٔ سید الشہداءؑ کا قیام بھی احیاء امر اہل بیت علیھم السلام ہے اور پیغام عزاداری کو آیندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا بہترین طریقہ نشر و اشاعت ہے تاکہ پیغام کربلا اور پیغام حسینیؑ ہماری آئندہ نسلوں تک پہنچ سکے۔
خدا وند عالم بحق معصومین اس ناچیز کوشش کو اپنی بارگاہ صمدیت میں شرف قبولیت عنایت فرمائے۔
ومن اللہ التوفیق
صدر الجوادؑ فاؤنڈیشن
((محمد منیر خان قمی،لکھیم پوری))
زمین روتی ہے یہ آسمان روتا ہے
غم حسین میں سارا جہان روتا ہے
تاریخ اسلام کابغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ جو سلوک مذہب اسلام کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے ماننے والوں نے اختیار کیا ویسا دیگر مذہب کے رہنمائوں کے ساتھ دیکھنے کو نہیں ملتا کسی بھی مکتب فکر سے کوئی تعلق رکھتا ہو وہ اپنے رہبروں کے بارے میں ضرور احترام و عزت کا قائل ہوتاہے،ہر شخص چاہتا ہے کہ اپنے ہادی اور رہنمائوں کی طرف منسوب اشیاء کو ضائعہونے سے بچائے اوران کی آل و اولاد کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے، یہ ستم ظریفی بے چارے اسلام کی تھی کہ مرسل اعظم ابھی مرض الموت میں تھے کہ آپ کے چاہنے والے آپ کے روبرو بد کلامی اور گستاخیاںشروع کر دیتے ہیں(١)اور اسی پر اکتفانہیں کی گئی بلکہ حضرت کے جنازہ کو بے گورو کفن چھوڑ کر آپ کے نام نہاد اصحاب سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت سازی کی غرض سے چلے جاتے ہیں۔
چوں صحابہ حب دنیا دا شتند
مصطفےٰ را بے کفن انداختند
بہر صورت جو سلوک حضور ﷺ کے ساتھ کیا گیا وہ کچھ غنیمت بھی ہے لیکن جو رویہ آپؐ کی آل و اولاد کے ساتھ
مسلمانوں نےکیا:
اس کو اگر ؎
تفصیل سے کہوں تو فلک کانپنے لگے
دوزخ بھی فرط شرم سے منھ ڈھانپنے لگے
ایسی خون کی ہولی کھیلی کہ سیدہ کونین حضرت زہرا جن کی عظمت یہ تھی کہ خود مرسل اعظم آپ کی آمد پر کھڑے ہو جاتے تھے (اللہ اکبر)ا ن کو اس قدر ستایا کہ آپ کو مرثیہ پڑھنا پڑا۔
صبت علیّ مصائب لو انھا
صبت علی الایام صرن لیا لیا
اے بابا ! میرے اوپر اس قدر مصائب ڈھائے گئے کہ اگر وہ دن پر پڑتے تو مثل رات تاریک ہو جاتے۔
آخر مسلمانوں نے ایسا کیوں کیا ؟کبھی آپ نے ا س پر بھی غور و خوض فرمایا ہے ؟آپ جب غور و خوض فرما کر اسکی تہ تک جائیں گے تو ایک ہی چیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ جن مسلمانوں نے ایسا سلوک کیا وہ حقیقت میں مسلمان ہوئے ہی نہ تھے ان کے دل و جان میں ذرہ برابر بھی محبت اسلام پیوستہ نہ ہوئی تھی انھوں نے صرف دبائو اور ریاست و زعامت طلبی کی خاطر ظاہری طور پر لبادہ اسلام اوڑھا تھا یہ لوگ اندورونی طور سے دنیا کے دلدادہ منصب وریاست کے فریفتہ تھے لہٰذا وفات رسول کے بعد انھوں نے ٹھنڈی سانس لی اور !آزادانہ طور سے اپنے بغض و حسد ظاہر کرنے لگے ایسے افراد آل رسول ﷺکے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کیسے کر سکتے تھے ؟
ہم کو ا ن سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
المختصر یہ کہ جو شخص رسول اسلام ﷺکی وفات حسرت آیات کی آگاہی رکھتا ہے اس کے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کون وفادار محمد ﷺ ہے اور کون غدار محمد ﷺ ۔
میں یہ کہتا ہوں کہ جو اہل بیت ؑرسالت کا طرفدار ہے وہ ہے وفادار اور جس نے ان کے دامن کو چھوڑا وہ ہے غدار محمد ﷺ ،اگر اس کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو جب ماہ محرم آئے تو تلاش کیجئے کہ کون محمدﷺ کے دلاروں پر ماتم اور آنسو بہا رہا ہے اور کون خوشی مناتا ہے، کون روتا ہے اور کون رونے والوں پر بدعت کا فتویٰ لگاتا ہے؟سنئے جو محمدﷺ کی اولاد کے غم میں غم منائے وہ محمد ﷺ کا اپنا ہے اور جو غم منانے سے روکے سمجھو کہ وہ محمد ﷺ کا پرایہ ہے،چنانچہ مثل مشہور ہے:اصل سے دغا نہیں اور کم اصل سے وفا نہیں ۔
کی محمد ﷺسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
جوں ہی ماہ محرم آتا ہے سوال نہیں سوالات اٹھنے لگتے ہیں کہ آپ کیوں روتے ہیں؟رونا جائز نہیں ہے، زندہ و جاوید کا ماتم صحیح نہیں! حسینؑ شہید ہو گئے ،شہید زندہ ہوتا ہے اور زندہ کا ماتم کرنا چہ معنیٰ دارد؟
قارئین محترم !اگر شہید کا غم منانا اور اس پر ماتم کرنا صحیح نہیں تو آپ بتائیں کہ حضرت رسول خدا ﷺ جناب حمزہ ؑکی شہادت پر کیوں اشک افشاں ہوئے ؟(٢)
حضرت آدم ہابیل ؑپر کیوں روئے؟(٣)کیا یہ لوگ آپ اتنی بھی عقل نہیں رکھتے تھے ؟کیا یہ حضرات آپ اتنی بھی شریعت سے واقفیت نہیں رکھتے تھے ؟
کون سمجھائے بھلا ایسے مسلمانوں کو
جھوٹ گڑھنا بھی تو آتا نہیں نادانوں کو
بہر حال بطور ثبوت اور اتمام حجت کی خاطر چند واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہوں جن میں شہادت مظلوم کربلا پر رونے والوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،پھر اسکے بعد میں تمام عالم اسلام سے انصاف کی بھیک مانگ کر پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان حضرات کے بارے میں کیا عقیدہ قائم کریں گے؟کیا ان پر بھی فتاوے ٔ بدعت صادر فرمایں گے ؟
آسمان و زمین کا غم حسین علیہ السلام میں رونا
(فمابکتْ علیھم السماء و الارض و ما کانوا منظرین)
(جب فرعون اور اسکے ماننے والے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دریائے نیل میں غرق کر دیئے گئے تو ارشاد رب العزت ہوا:) (پس ان پر )نہ آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی ان کو ڈھیل دی گئی۔
آیۂ مذکورہ کے تیور بتلا رہے ہیں کہ جب فرعون اور فرعونیوں نے خدا کے بھیجے ہوئے نبی کی پیروی اور اتباع کے بجائے ان کے انداز و تبلیغ سے انکار کیا اور ان کو اذیتیں پہنچانا شروع کیں تب خدا نے انہیں دریائے نیل میں ڈبو کر مار ڈالا اور پھر ان کی موت پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین نے آنسو بہائے ۔
اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اگروہ خدا کے بھیجے ہوئے نبی کی اتباع کرتے اور تبلیغ دین میں مصائب و آلام جھیل کر شہید ہو جاتے تو یقیناً آسمان و زمین ان پر آنسو بہاتے گویا اگر کسی کی موت معبود کی اطاعت میں ہوتی ہے تو خدا آسمان و زمین کو حکم دیتا ہے کہ اس پر گریہ کریں ،چنانچہ آسمان و زمین نے امام حسین ؑپر گریہ کیا ہے .اس سے متعلق متعدد روایات کتب اہل سنت و الجماعت میں مرقوم ہیں قبل اسکے میں اہل سنت کی کتابوں سے حوالہ دوں دو چار شیعہ کتابوں سے حوالے معہ واقعات کے نقل کرتا ہوں۔
تفسیرقمی میں آیۂ مذکورہ کے ذیل میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے اس طرح مروی ہے:
''ایک مرتبہ آپ کے سامنے سے ایک شخص کا گزر ہوا جو اللہ و رسولؐ کا دشمن تھا تو آپ نے اس وقت اس آیت کی تلاوت فرمائی پھر حضرت کے سامنے آپ کے صاحبزادہ حضرت امام حسین علیہ السلام گزرے تو آپؑ نے فرمایا:
‘‘یہ وہ شخص ہے جس پر آسمان و زمین ضرور روئیں گے’’ ۔
پھر فرمایا :زمین و آسمان یا تو یحیٰ بن زکریا ؑ پر رو چکے ہیں یا پھر حسینؑ پر چالیس دن روئیں گے۔
تفسیر مجمع البیان''میں مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
آسمان و زمین حضرت یحیٰ بن زکریا ؑاور امام حسینؑ پر چالیس چالیس دن روئے ہیں ان دونوں کے علاوہ اور کسی پر نہیں روئے ،کسی نے پوچھا اے فرزند رسول ؐ!آسمان کے رونے کی علامت کیا ہے ؟فرمایا طلوع و غروب کے وقت بہت زیادہ سرخی نمودارہو جایا کرتی تھی''۔(۴)
علمائے اہل سنت نے بھی اسی طرح کے مضامین اپنی کتا بوں میں نقل کئے ہیں چنانچہ آئندہ ہم چند واقعات کی طرف اشارہ کریں گے مثلاًعلامہ شبلنجی نے اپنی کتاب نور الابصار میں آیۂ''فما بکت…الخ''کے ذیل میں تحریر فرمایا ہے:'' شہادت امام حسین علیہ السلام پر آسمان و زمین نے گریہ کیا۔(٥)
‘‘ تذکرة الخواص'' میں علامہ سبط ابن جوزی،'' طبقات ابن سعد ''میں ابن سعد اور'' التبصرہ ''میں جدی ،ابو الفرج رقم طراز ہیں: ‘‘ جو سرخی آسمان پر اس وقت ہے ،یہ قتل حسینؑ کے بعد سے ہویدا ہوئی ہے شہادت حسین ؑسے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی’’ (٦)
جدی ابو الفرج اپنی کتاب'' التبصرہ'' میں سرخی افق کی علت بیان فرماتے ہیں:
خدا نے قتل حسین ؑ پر اپنے غصہ کا اس طرح اظہار کیا ہے کہ جس طرح انسان غصہ ہوتا ہے تو اس کے غیض و غضب کی علامت اسکے چہرے کی سرخی سے پہچانی جاتی ہے مگر چوں کہ خدا جسم و جسمانیت سے منزہ ہے لہٰذا اسکے لئے سرخی چہرہ تو ممکن نہ تھا تو اس نے اپنے غیض و غضب کو آسمان کے افق کو سرخ کر کے ظاہر کیا اور اس کااس تاثیر کا ظاہر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قتل حسین ایک بہت بڑا گناہ تھا'' ۔(۷)
ابن سیرین سے منقول ہے :
‘‘جب امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا گیا تو تمام دنیا تاریک ہو گئی تھی اور اسکے تین دن بعد آسمان پر سرخی ظاہر ہوئی جو ابھی تک باقی ہے’’۔(٨)
سدی ثعلبی سے منقول ہے:
‘‘جب امام حسین ؑکو قتل کر دیا گیا توآپ کے قتل پر آسمان رویا اور اس کا رونا اس کا سرخ ہونا ہے’’۔(٩)
ابو نعیم سے منقول ہے:
‘‘جب امام حسین ؑ کو شہید کر دیا گیا تو آپ کے غم میں آسمان نے خون کی بارش کی چنانچہ جب ہم نے صبح کی تو تمام گڈھے اور کنویں خون سے بھرے ہوئے دیکھے’’
اسی طرح متعدد روایات میں ملتا ہے کہ حضرت امام حسینؑ کی شہادت کے بعد تمام آسمان میں بھیانک گھٹا ٹوپ اندھیرا پھیل گیا تھا،یہاں تک کہ دن میں ستارے نظر آنے لگے اور جو بھی پتھر زمین سے اٹھایا جاتا اسکے نیچے سے جوش مارتا ہوا تازہ خون نکلتا ۔(١١)
علامہ سلیمان قندوزی اور علامہ شبلخی نے تحریر کیا ہے:
‘‘جب امام حسین ؑ کو قتل کیا گیا تو سارے آسمان پر لالی چھا گئی اور سورج کو گہن لگ گیا یہاں تک کہ نصف النہار کو ستارے نظر آنے لگے’’۔(١٢)
علامہ ابن حجر لکھتے ہیں :
‘‘جس روز حضرت امام حسین ؑ کا قتل رونماہوا اس دن ملک شام میں جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اسکے نیچے جوش مارتا ہوا تازہ خون نکلتا یہاں تک کہ پورا آسمان سرخ ہو گیا اور ستارے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے’’ ۔(١٣)
علامہ قندوزی نے مزید تحریر فرمایا ہے:
‘‘بیت المقدس میں جو پتھر اٹھایا جاتا اس کے نیچے سے خون نکلتا ’’۔(١٤)
علامہ سلیمان قندوزی نے مزید تحریر فرمایا ہے:
‘‘جب تمام شہداء کے سر ہائے اقدس دربار ابن زیاد میں لائے گئے تو سارے در و دیوار کا رنگ سرخ ہو گیا’’۔(١٥ )
ابن حجر مکی نے تحریر فرمایا ہے :
‘‘ ساری دیواروں سے تازہ خون جوش مار کر نکلنے لگا ’’۔(١٦)
ملائکہ آسمان کا حضرت امام حسین ؑ کے غم میں رونا :
تواریخ میں وارد ہوا ہے:
‘‘جب فطرس فرشتہ جسکے بال و پر امام حسین ؑکے وسیلہ سے عطا ہوئے تھے اسکو شہادت امام حسینؑ کی اطلاع ملی تو اس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی: مالک مجھے اجازت دی جائے تاکہ زمین پر جاکر دشمنان حسین ؑسے جنگ کروں ،ارشاد ہوا جنگ کی ضرورت نہیں البتہ تو ستر ہزار فرشتہ لیکر زمین کربلا پر چلا جااور (امام حسینؑ )کی قبر پر صبح و شام گریہ کیا کر اور اسکا جو ثواب ہو اسے انکے رونے والوں کے لئے ہبہ کر دے چنانچہ فطرس زمین پر جا پہنچا اور تا قیامت شب وروز روتا رہے گا ’’۔(١٧)
غنیة الطالبین میں شیخ عبد القادر جیلانی اور علامہ شبلخی نے اپنی کتاب'' نور الابصار ''میں سلیمان اعمش سے نقل کرتے ہیں :
‘‘ایک مرتبہ میں حج کے لئے مکہ گیا تودیکھا کہ ایک شخص ہے جو کعبہ کا پردہ پکڑ کر اپنی مغفرت کی دعا کر رہا ہے نیز یہ بھی کہتا جا رہا ہے کہ میرے مالک میں جانتا ہوں کہ تو میرا گناہ معاف نہیں کرے گا ۔’’
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ آخریہ کیسا مرد ہے ،ایسا کیوں کہہ رہا ہے ،ایسا کون سا گناہ ہے جو قابل بخشش و عفو نہیں ،چنانچہ میں جب طواف سے فارغ ہوا تو میں اسکی طرف متوجہ ہوا اور اس شخص سے اسکا سبب دریافت کیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور خانۂ کعبہ سے باہر آکر کہنے لگا میں ان ستر آدمیوں میں سے ایک ہوں جو شہادت حسین ؑکے بعد آپکا سر اقدس اٹھا کر دربار یزید میں لائے اور ہم لوگوں نے اس سر کو اس جگہ رکھ دیا جہاں یزید سوتا تھا جب نصف شب گزر گئی تو یزید کی بیوی بیدار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ نورانی شعاعیں سر اقدس سے آسمان کی جانب بلند ہیں پس ہم سب پر ایک خوف سا طاری ہو گیا اتنے میں یزید بھی بیدار ہو گیا اور اس نے یہ ساری کیفیت دیکھی ،الغرض یہ کیفیت کچھ دیر بعد تمام ہو گئی لیکن جب دوسری شب ہوئی تو میں بیدار ہی تھا کہ اچانک آسمان کی جانب سے بادل کا ایک عظیم ٹکڑا آیا اور اس سے گرجنے اور کڑکنے کی آواز گونجنے لگی اور اس سے ایک خوبصورت وجیہہ صورت با وقار اور با رونق مردظاہر ہوا اسکے جسم پر جنت کے دو حلے تھے اور اسکے ہاتھوں میں بہت سی قالین اور کرسیاں تھیں اس نے ان سب کو بچھا دیا اور کھڑے ہو کر ندا دی :ائے
ابو البشر آدمؑ! نازل ہو اتنے میں حضرت آدمؑ نازل ہوئے اور امام حسین ؑکے سر اطہر کے نزدیک کھڑے ہو کر کہنے لگے :''السلام علیک یا بقیة الصالحین''اسی طرح تھوڑی دیر کے بعد حضرت نوح ؑ کو آواز دی گئی وہ بھی مثل حضرت آدمؑ ندا دیتے ہوئے سر امام کے پاس کھڑے ہو گئے ،الغرض باری باری حضرت ابراہیم ؑو موسیٰؑ و عیسیٰ ؑمثل آدم ؑآتے رہے اور سر امامؑ سے مخاطب ہو کر ہم کلام ہوتے رہے آخر میں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نازل ہوئے آپ کی داہنی جانب ملائکہ کی صفیں تھیں اور حضرت امام حسنؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑبھی تھیں آنحضرت ؐنے سر اقدس کو اٹھایا اورسینہ سے لگا کر اس طرح گریہ کیا کہ جتنے بھی افراد اس جگہ تھے وہ سب چیخ مار کر رونے لگے ۔(١٨)
محترم قارئین !اس واقعہ سے جہاں انبیاء و مرسل اعظم کا شہادت حسین پر رونا ثابت ہوتا ہے وہیں ملائکہ کا بھی گریہ ثابت ہوتا ہے ،کیوں کہ روایت میں صاف موجود ہے کہ جتنے افراد اس مکان میں موجود تھے وہ سب گریہ کرنے لگے اور ملائکہ کی صفیں اس جگہ آنحضرت ۖکے ساتھ موجود تھیں لہٰذا تمام ملائکہ کا حضرت امام حسینؑ پر گریہ کرنا حکم الہٰی کے تحت تھا کیوں کہ یہ حضرات ایسا کوئی کام نہیں کرتے جو حکم خدا کے خلاف ہو کیوں کہ یہ معصوم ہوتے ہیں ۔
حضرات انبیاء علیہم السلام کا خبر شہادت حسین ؑپر آنسو بہانا:
متعددکتب تواریخ و مقاتل میں مرقوم ہے کہ انبیاء نے شہادت امام حسین ؑکی خبر سن کر گریہ فرمایا ہے چنانچہ مروی ہے کہ جب حضرت آدمؑ کا کربلا سے گزر ہوا تو آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ کے پیر سے خون آنے لگا ،آدم ؑنے عرض کی معبود مجھ سے کون سی خطا ہو گئی ہے جس کی یہ سزا ہے ؟ارشاد ہوا آدم ؑیہ زمین کربلا ہے یہاں سے کوئی بھی خاصان خدا بغیر اذیت نہیں گزر سکتا،آدم ؑنے کہا
اے معبود!یہاں کیا ہے ؟فرمایا یہاں آخری نبی کا نواسہ تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کیا جائے گا ،آدمؑ یہ سن کر رونے لگے اور جب حضرت نوحؑ کی کشتی یہاں سے گزری تو اس مقام پر پہنچ کر چکرانے لگی حضرت نوحؑ گھبرا گئے عرض کی معبود کیا کشتی ڈوب جائے گی ؟ارشاد رب العزت ہوا:نہیں نوح ؑیہاں کشتی اہل بیت ؑغرق ہوگی حسین ؑاسی کشتی کا ناخدا ہوگا جو بھوکا پیاسا قتل کر دیا جائے گا ،حضرت نوحؑ بھی رونے لگے اور جب حضرت یحییٰ ؑکا گزر ہوا تو دیکھا کہ بے آب و گیاہ دشت ہے مگر کچھ میگنیاں پڑی ہیں ،سوچنے لگے اگر یہ مینگنیاں ہیں تو پانی بھی یہاں ضرور ہوگا لہٰذاپانی کی تلاش میں نکلے دیکھا فرات ندی بہہ رہی ہے اور کچھ ناقے اس کے کنارے کھڑے ہیں مگر پانی نہیں پیتے ،اللہ کے نبی نے بارگاہ احدیت میں دعا کی: اے میرے مالک !یہ کیا ماجرا ہے ؟آخر یہ ناقے پانی کیوں نہیں پیتے ؟ارشاد ہوا :اے میرے نبی !تم ان ناقوں سے خود معلوم کر لو .چنانچہ حضرت یحیٰ ؑنے ان سے دریافت کیا تو وہ بقدرت خدا گویا ہوئے اور کہنے لگے:اے نبی خدا ہم پانی یہاں کیسے پئیں جبکہ یہ فرات بہتی رہے گی اور آخری نبی کا نواسہ تین دن کا بھوکا پیاسا مع اعوان و انصار شہید کر دیا جائے گا ،اسی پانی سے حسین ؑکے بچے محروم رہیں گے اسی بنا پر ہم پانی نہیں پیتے ۔
اسی طرح توریت میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے شہادت حسینؑ کی یادگار منانے کی اپنی قوم سے وصیت کی تھی چنانچہ توریت کی کتاب اخبار کے باب ٢٣آیت ٢٣ سے لیکر ٣٢ تک اس طرح درج ہے :
‘‘خدا وند متعال نے حضرت موسیٰؑ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :اے موسیٰ ؑقوم بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ ساتویں ماہ ( بنی اسرائیل کا سنۂ ھلالی رجب سے شروع ہوتا ہے )پہلے دن سے تمہارے لئے ایک سبت (ہفتہ)بطور یادگار ہوگاتم قرنائو ں( ماتمی باجے )کو پھوکنا اس وقت جو مجمع ہوگا وہ جماعت مقدس ہوگی اور تم کوئی دنیاوی کاروبار نہ کرنا اور آتشی قربانی نذر کرنا ساتویں مہینہ کے دس دن کفارے کے دن ہوں گے،تمہاری مقدس جماعت ہوگی تم اپنے آپ کو غم زدہ بنانا اور خدا کے لئے آتشی قربانی کرنا ،تم عین اسی دن کوئی کام نہ کرنا کیوں کہ وہ عین کفارے کا دن ہے بس تم اپنے خداکے لئے کفارہ دو جو شخص مخصوص اس دن (روز عاشورہ)غمگین نہ ہوگا وہ قوم سے کٹ جائے گا اور جو شخص عین اسی دن کوئی کام کریگا میں اس شخص کو قوم سے فنا کر دوں گا ان دنوں تم کسی طرح کا کام نہ کرنا ۔’’
مذکورہ عبارت سے واضح ہے کہ عشرۂ محرم کا تذکرہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور پھر حسینؑ کا غم کتنا عظیم ہے کہ جسکا پروردگار عالم نے تمام انبیاء کو حکم دے دیا ہے ۔
شہادت امام حسینؑ پرحضرت ختمی مرتبت ﷺکا گریہ فرمانا :
کتب احادیث میں مروی ہے:
‘‘حضرت امام حسین علیہ السلام پیدا ہوئے تو جناب ام الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت حسینؑ کو دیکھ کر گریہ فرما رہے ہیں ،تو میں نے عرض کی :
یا رسول اللہ ﷺ! میں تو بچے کو اس وجہ سے لائی تھی کہ آپ خوش ہوں گے لیکن آپ نے تو رونا شروع
کر دیا ؟رسول ﷺنے فرمایا :اے ام فضل تو حسین ؑکو ادھر لائی اور ادھر جبرئیلؑ تربت حسینؑ لیکر پہنچ گئے اور کہتے ہیں کہ اس بچے کو خوب جی بھر کر پیار کر لو کیوں کہ تیری امت اسے کربلا میں ایک دن بے آب ودانہ شہید کر دے گی ۔
اس کے بعد جبرئیلؑ نے وہ مٹی مجھے دی جس سے امام حسین علیہ السلام کی قبر بنے گی اس کے بعد رسول ﷺنے ام سلمہ کو وہ خاک دے کر فرمایا :اس کو محفوظ رکھنا یہ مٹی اس دن سرخ ہو جائے گی جب میرا حسینؑ شہید کر دیا جائے گا
ام سلمیٰ فرماتی ہیں :جب دسویں محرم کا دن آیا تو میرا دل بہت گھبرایا میں کبھی اندر جاتی اور کبھی باہر آتی تھی کہ مجھے غش آگیا اور نیند کی حالت میں دیکھا کہ رسول خدا ﷺ تشریف لائے ہیں اور ان کے سر و داڑھی میں گرد و غبار ہے سر کے بال پراگندہ ہیں اور سر پر ہاتھ مارتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہائے میرا حسینؑ شہید ہو گیا ،میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسی حالت ہے فرمایا:اے ام سلمہ!حسینؑ قتل کر دئے گئے میں ان کی قتل گاہ سے ابھی چلا آرہا ہوں''۔(١٩)
حضرت ام سلمہ کی طرح جناب ابن عباس نے بھی خواب دیکھا تھا ۔(٢٠)
حضرت علی علیہ السلام کا غم حسینؑ میں آنسو بہانا
ابن سعد نقل کرتے ہیں :
‘‘جب حضرت علی ؑجنگ صفین سے واپس آرہے تھے تو راستہ میں کربلا سے گزر ہوا آپ اس جگہ رک گئے اور رونے لگے مرقوم ہے کہ آپ کے آنسوں سے زمین کربلا تر ہو گئی تھی اس قدر روئے ،چاہنے والوں نے معلوم کیا تو فرمایا:ایک روز میں خدمت رسالتمآب میں حاضر ہوا دیکھا حضرت رو رہے ہیں میں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا :اے علیؑ!ابھی جبرئیلؑ یہ خبر لے کر آئے تھے کہ میرا بیٹا حسینؑ فرات کے کنارے میدان کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاسا قتل کر دیا جائیگا اور اس کے بعد جبرئیل ؑنے ہاتھ بڑھا کر زمین کربلا سے یہ مٹی اٹھا کر دی ہے جس میں حسینؑ کے خون کی خوشبو آرہی ہے’’۔(٢١)
خاندان اہل بیت علیہم السلام کا شہادت پر ماتم اور نوحہ کرنا
تاریخ ابن کثیر میں اس طرح مرقوم ہے :
‘‘بعد شہادت حسینؑ بیبیاں لاش حسینؑ پر آئیں اور حلقہ باندھ کر گریہ اور ماتم کرنے لگیں یہ پہلا حلقہ ماتم تھا جو آل محمد ﷺکی بیبیوں نے لاش حسین ؑپر باندھا اورزینب ؑنے تو ایسا ماتم کیا کہ'' ابکیت کل عدو و صدیق''دوست اور دشمن بھی رو پڑے اور لاش حسینؑ پر زینب نے یہ نوحہ پڑھا :
‘‘یا محمد ؐاہ صلیّ علیک اللہ وملک السماء وھذاحسین فمرمل بالدماء’’
اے نانا !دنیا آپ پر صلوٰة بھیجتی ہے لیکن میں قید ہوکر جا رہی ہوں اور تیرا یہ بیٹا حسین ؑہے جو خون میں لت پت پڑا ہواہے ۔(٢٢)
تاریخ میں وارد ہواہے کہ جب لشکر یزید کو اسکی اطلاع ہوئی تو وہ سب اپنی اپنی پیشانی پکڑ کر رونے لگے ،ہمیں تو یہ کہا گیا تھا کہ نوجوانوں سےجنگ ہے مگر یہاں تو دیکھ رہے ہیں کہ محمد ﷺکی بیٹیاں ہیں ،اب جو عمر سعد نے دیکھا تو زینبؑ کو روکا جب زینبؑ نہ رکیں تب اسنے آپ کے ہاتھوں کو پس پشت باندھنے کا اعلان کر دیا۔
قارئین کرام!اس تفصیل کے بعد کیا کسی میں ہمت ہے کہ وہ انکار کرے کہ حسین ؑپررونا بدعت ہے ان شواہد اور واقعات کے باوجود اب اگر کوئی غم حسین ؑکو روکے اور بدعت کے فتوے لگائے تو نہ دیکھنا کہ یہ مسلمان ہے بلکہ وہ لبادہ اسلام اوڑھ کر یہودیت کا پرچار کر رہا ہے اسلام سے اسکا دورسے بھی واسطہ نہیں ہے۔
حوالہ جات:
(۱) صحیح مسلم جلد ٥ ،کتاب الوصیة، باب(٥) '' ترک لمن لیس لہ شیء یوصی فیہ''حدیث١٦٣٧۔
صحیح بخاری: جلد١،کتاب العلم ،باب(٤٠)''کتابة العلم''حدیث١١٤۔جلد ٧ ،کتاب المرضی، باب(١٧)''قول المریض قومواعنی''حدیث٥٦٦٩۔ جلد٩،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة،باب(٢٦)'' کراہیة الخلاف'' حدیث٦٩٣٢۔صحیح بخاری ج٦،کتاب المغازی،باب''مرض النبؐی ووفاتہ''حدیث ٤١٦٩۔
صحیح بخاری جلد ٤،کتاب الجہاد، باب'' ھل یستشفع الی اھل الذمة'' حدیث ٢٨٨٨۔ کتاب الخمس ابواب الجزیة والموادعة،باب''اخراج الیہود من جزیرةالعرب''حدیث ٢٩٩٧۔جلد ٦،کتاب المغاز ی، باب''مرض النبی وفاتہ''حدیث ٤١٦٨۔
(۲) سیرة النبی،ج ١،مؤلفہ علامہ شبلی نعمانی
(۳) قصص الانبیائ
(۴) ماخوز از ترجمعۂ قرآن مقبول احمد صاحب (۵) نور الابصار ص١٤٧
(۶) اسعاف الراغبین ص١٢٤، صواعق محرقہ، ص١٩٤
(۷)اسعاف الراغبین ،حاشیہ نور الابصار ۔ینابیع المودة ص٣٨٣ ،صواعق محرقہ
(۸) تذکرة الخواص، ص ٢٤٦،نور الابصار،ص١٤٧،صواعق محرقہ ،ص١٩٤
(۹) تذکرة الخواص ص١٤٩،صواعق محرقہ ص١٩٤،ینابیع المودة ص ٣٨٧،نور الابصار ص ١٤٧۔
(۱۰)صواعق محرقہ، ص ١٩٤،دلائل النبوة ،ینابیع المودة ،ص ٣٨٥،نور الابصار، ص ١٤٧۔
(۱۱)صواعق محرقہ ،ص١٩٤،تذکرة الخواص، ص ٣٤٦۔ (۱۲) ینابیع المودة ،ص ٢٨٣،نور الابصار ،ص٢١٣۔
(۱۳) صواعق محرقہ (۱۴) ینابیع المودة، ص ١٨٦۔
(۱۵)ینابیع المودة،ص٣٨٧۔ (۱۶) ینابیع المودة،و صواعق محرقہ۔ (۱۷)روضة الشہداء ص٢٣٦تا ٢٣٨طبع بمبئی
(۱۸)ماخوذ ازنور الابصار، ص ١٥٠،طبع بمبئی
(۱۹) مشکوٰة شریف، باب مناقب اہل بیت علیہم السلام ،تذکرة الخواص،ص٢٤٥،فصول المہمہ،ص١٧٠،نور الابصار،ص١٣٩،صواعق محرقہ،ص١٩٣،ترمذی شریف،ینابیع المودہ،ص٢٨٤.
(۲۰)ینابیع المودہ ،ص٣٨٤،تذکرةالخواص،ص٢٤٧ (۲۱) تذکرة الخواص،ص١٣٥،صواعق محرقہ،ص١٩٣،نورالابصار،ص١٤٠
(۲۲) ماخوذ ازتاریخ ابن کثیر ،آٹھویں جلد
میر اعظم علی جعفری
قال اللہ تبارک و تعالی:
‘‘و لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السموت و الارض ومن فیھن’’۔
ترجمہ:‘‘ اگر حق (باطل) خواہشات کی پیروی کرلیتا تو یقینا یہ نظام ہستی درہم برہم ہوکر رہ جاتا۔’’ (سورۂ المومنون آیت ۷۱)
آیت کا مفہوم اور ظاہر اس بات کی طرف اشارہ ہیکہ چونکہ حق نے باطل کا اتباع اور پیروی نہیں کی اس لئے یہ نظام کائنات اپنی نہج پر رواں دواں ہے۔
قرآن مجید میں اس مزاج کی دو ہی آتیں ملتی ہیں۔ ایک آیت ِ مذکورہ اور دوسری آیت '' لو کان فیھما آلھة الا اللہ لفسدتا ''اگر خدا کے علاوہ زمین و آسمان میں کوئی اور خدا ہوتا تو یہ دونوں (زمین و آسمان) تہس نہس ہوجاتے۔ اور چونکہ خدا ایک ہی ہے لہذٰا کائنات کا ذرہ ذرہ بحکم پرور دگار واحد اپنے محور پر رواں دواں ہے۔
۶۱ ھ میں باطل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ حق سے طالب بیعت ہوا قرآن نے آواز دی '' ولو اتبع الحق'' اگر حق باطل کی اتباع کرلیتا اور اس کے سامنے سر تسلیم جھکا دیتا نہ تو آسمان کا وجود باقی رہتا نہ زمین کا۔
اتباع اور بیعت دونوں کا مادہ '' ب، ی، ع'' ہی ہے۔ تو جب باطل درِ حق پر سائل بن کر آیا اور بیعت کا تقاضا کیا تو حق نے باطل کی پیروی کرنے سے انکار کردیا۔باطل کے پرچمداریزید نے اپنے نا مشروع، رذیل اور بد کردرار اعمال کو اسلامی جامہ پہنانے ،حق کے علمبردار حسین علیہ السلام سے بیعت کا سوال کیا اور اپنی پیروی کی دعوت دی، حسینؑ نے بیعت کو ٹھکرا کر ہر شریف النفس انسان کو سر بلندی کے ساتھ جینے کا درس دیا۔حسین ؑنے یزید کی بیعت کی پیاس اپنے لہو سے بجھائی، حسین ؑنے اپنی اور اپنے اصحاب کی شہادت سے جہاں دین، شریعت، اصول و فروع اور توحید و نبوت کو جلا بخشی وہیں پوری کائنا ت کو نسیا ً منسیا'' ہونے سے بھی بچالیا۔اور یزید کے ناپاک ارادے کو نقش پر آب کر کے رکھ دیا۔
قرآن کہہ رہا ہے کہ اگر حق، باطل کی پیروی کرلیتا تو نظام کائنات درہم و برہم ہو کر رہ جاتا۔
حسین ؑنے بیعت کا انکار کر کے کائنات کے ذرے ذرے کو حیات بخشی ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ حسینؑ کا مرہون منت ہے۔ حسین ؑنے صرف دین ہی نہیں بلکہ دین، شریعت، توحید و نبوت و قرآن کے ساتھ ساتھ انسان اور انسانیت، زمین و آسمان کو بھی جلا بخشی ہے۔ اسی لئے تو شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ
اگر انسان تعصب کی عینک کو اپنے آنکھوں سے اتار کر حقیقت اور بصیرت کی عینک سے تاریخ کربلا کا مطالعہ کرے تو یقیناً ایک منصف مزاج انسان اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ حسین ؑنے انسان کو شرافت بخشی، سر بلندی کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھایا۔ شہادت و استقامت کا سبق پڑھایا۔ صبر و استقلال کا انمول درس دیکر خود صبر کی معراج بن گئے۔فکروں کو شعور عطا کیا تو جذبوں کو جلا بخشی۔
ایک حق شناس، اور شریف النفس انسان کی عقل کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسانات کی قدر دانی کرتے ہوئے اسکی خدمت میں ھدیہ تشکر پیش کرے۔یہی جذبۂ تشکر ہے جو ہمیں اپنے زندگی کے ہر ہر مرحلے میں بالعموم اور ماہ محرم میں بالخصوص۔ حسینؑ کی قربانیوں کو تازہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ہمہ دم اور ہر لمحہ ہماری زبانوں پر یا حسینؑ کا نعرہ رہتا ہے۔ عجب نہیں کائنات کے بے جان ذرّات بھی اپنی زبان بے زبانی میں اپنے محسن حق کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوں اور وہ بھی اس بات کا اقرار کرتے ہوں کہ ہمارا وجود حسینؑ کی قربانی کا مرہون منت ہے۔ اور حسین ؑکائنات کی بقا کا ضامن ہے گویا کائنات کا ذرّہ ذرّہ کہہ رہا ہو '' انا من الحسین '' میرا وجود حسینؑ کا تصدق ہے۔ میری بقا کا ضامن حسینؑ ہے یہ اور بات ہیکہ ہمارے کان ان ذرات کی آواز سننے سے قاصر ہیں۔ یہ بات تو طے یہکہ کائنات کا ذرہ ذرہ تسبیح خداوند عالم کرتا ہے اور قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر بھی ہوا ہے چنانچہ سورۂ جمعہ کی ابتدائی آیت میں ارشاد ربانی ہو رہا ہےکہ '' یسبح للہ ما فی السموات و ما فی الارض........... الخ'' جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔
سورۂ اسراء کی ٤٤ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ ‘‘ و ان من شیء الا یسبح بحمدہ و لکن لا تفقہون تسبیحھم’’
‘‘ کائنات میں کوئی ایسی شیٔ نہیں جو اس کی تسبیح و تقدیس نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح (کی آواز) کوسننے اور سمجھنے سے تمہاری سماعتیں قاصر ہیں۔ ’’
جسطرح موجودات عالم کی تسبیح و تقدیس کی آواز سننے سے ہمارے کان قاصر ہیں اسی طرح کائنات کے ذرّے ذرّے کا نعرہ '' انا من الحسین ''(میرا وجود حسینؑ کا مرہون منت ہے)ہماری سماعتوں سے نہیں ٹکراتا۔ لیکن یہ طے ہیکہ کائنات کا ذرہ ذرہ یہی نعرہ لگارہا ہے دلیل یہ ہےکہ یہ پوری کائنات خلق ہوئی ہے نبی کریم ﷺ کے صدقے میں۔ چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوا کہ '' لو لاک لما خلقت الافلاک '' خداوند عالم ارشاد فرمارہا ہیکہ اے میرے حبیب اگر آپ کے وجود بابرکت کو خلق کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں کسی بھی شیء کو، اس کائنات کو خلق ہی نہ کرتا (گویا نبی کے صدقے میں یہ کائنات بنی) اسی طرح حدیث کساء میں بھی خداوند عالم اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر نورانی مخلوق کے درمیان یہ اعلان کر رہا ہے '' یا ملائکتی و سکان سمواتی و عزتی و جلالی انی ما خلقت سماء ًا منبیا و لا ارضا ً.............الخ''۔
جس رسول ﷺ کے طفیل اس کائنات کو وجود ملا۔ وہی رسول ﷺ یہ کہتا نظر آتا ہے کہ '' حسین منی و انا من الحسین '' تو بھلا کائنات کے ذرے کی کیا مجال جو یہ نہ کہے کہ '' انا من الحسینؑ '' مختصر یہ کہ یہ کائنات خلق ہوئی بنی نانا ﷺ کے صدقے میں اور بچی نواسے کے صدقے میں۔
اگر انسان اس بات کو تسلیم کر لے تو پھر بقول شاعر:
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
یہی تو وجہ ہے کہ جس انسان نے بھی تاریخ کربلا کا مطالعہ کیا اس نے اپنے درونی احساسات کو قرطاس پر رقم کردیئے۔
اپنے تو اپنے ہیں غیر بھی شخصیت حسینؑ ، حسینی انقلاب اور تاریخ کربلا سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے شہادت حسینؑ اور قربانی حسینؑ سے متعلق اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
بطور نمونہ، دانشورانِ قوم و ملت کے چند تاثرات قارئین کرام کے پیش خدمت ہیں۔
سردار کرتار سنگھ(ایم اے ایل ایل بی ہائی کورٹ پٹیالہ) اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
بظاہر مسلمان اوسطا ً غریب ہے لیکن مسلمان سب سے زیادہ امیر ہے۔ کیونکہ حسین ؑجیسی شخصیت اسے ورثہ میں ملی ہے۔ اگر آپ حسینؑ کو بھول جائیں تو اس کا نتیجہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔
مسٹر جان لونگ کا اظہار تأثر :
حسینؑ دین دار، خدا پرست، فروتن اور بے مثل بہادر تھے وہ سلطنت اور حکومت کے لیے نہیں لڑے بلکہ خدا پرستی کے جوش میں یزید سے اس لیے بیزار تھے کہ وہ اسلام اور دین محمدی ؐ کے خلاف تھا۔
پروفیسر گھوپتی سہائے کا اظہار خیال : سیدناحسین علیہ السلام کی بلند اور پاکیزہ سیرت محسوس کئے جانے کی چیز ایسے الفاظ کا پانا آسان نہیں جو ان کے کردار کے مکمل مظہر ہوں۔
بی جی کھیرو(سابق وزیر اعلیٰ صوبہ بمبئی) کا اظہار رائے :
یہ تو آسان ہے کہ حق اور سچائی کے لیے اپنی جان دے دی جائے مگر یہ مشکل ہے کہ ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ میں چند گنے چنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو لے کر ان کا مقابلہ کیا جائے ہندوؤں کا کوئی ہڑا پنڈت یا عالم اس وقت تک حقیقی معنوں میں عالم یا پنڈت نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حسین ؑکے اس پیغام اور اصول کو اچھی طرح نہ جانے۔
امام حسینؑ صرف مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ ہندوؤں کے بھی ہیں اور ہندو اور مسلمان ان کے نقش قدم پر چل کر ہی ظلم و ستم کے خلاف سینہ سپر ہوسکتے ہیں۔
مسٹر جے اے سمییں (سپیشل مجسٹریٹ آگرہ ... آنریری سکریٹری انڈین کر سچن ایسوسی ایشن) کااظہار تاثر :
حسینؑ کی قربانی قوموں کی بقاء اور جہاد آزادی کے لیے ایک ایسی مشعل ہے جو ابدلآباد روشن رہے گی حسینؑ کی شہادت شکست نہیں بلکہ اسلام کی نہ مٹنے والی فتح ہے اسلام اس گرانقدر قربانی پر فخر کرتا ہے اور کرتا رہے گا خوش بخت ہے وہ قوم جس میں حسینؑ جیسا جانباز مجاہد پیدا ہوا۔
منشی پریم چند ورما :
معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور جس کی صدا آج تک فضاء عالم میں گونج رہی ہے۔
ایک ہندو شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر دہلوی کے تاثرات :
سحر دہلوی کا منظوم خراج عقیدت پیش خدمت ہے۔
گلشن صدق و صفا کا لالۂ رنگین حسین
شمع عالم، مشعل دنیا چراغ دیں حسین
سر سے پا تک سرخی افسانہ خونیں حسین
جس پہ شاہوں کی خوشی قرباں وہ غمگیں حسین
مطلع نورمہ و پردیں پیشانی تیری!
باج لیتی ہے ہر اک مذہب سے قربانی تیری!
دستور کیخسر و ہیار کنور(پیشوائے اعظم فرقہ پارسی ) :
اگر شہید اعظم حسینؑ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو دنیا اخلاق مذہب اور صداقت سے نا آشنا رہتی دنیا شہداء کی ممنون ہے جنہوں نے موت کو ذلت پر ترجیح دی امام حسین علیہ السلام ان شہداے کے سردار ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے قربانی دی ہم کو ان کی یاد اپنے عمل سے منانی چاہیئے اور ان کی قربانیوں سے سبق لینا چاہیئے۔
ھندوؤں کا خراج عقیدت
پنڈت جواہر لال نہرو :
تاریخ کا ایک سبق آموز واقعہ وہ عظیم اور جاودانی اثر ہے جو کربلا کے غم انگیز سانحہ سے دنیائے اسلام پر مرتب ہوا۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہ ان طویل صدیوں میں کروڑوں نفوس پر یہ عظیم الشان اثر جاری رہا اور لاتعداد افراد کی ہمدردیاں حاصل کرتا رہا۔ لیکن پھر بھی یہ امر تعجب خیز نہیں ہے اس لیے کہ کسی خاص مقصد کے لیے قربانی نوع انسانی پر ہمیشہ اثر انداز ہوتی رہی ہے۔
مہاتما گاندہی کی ضمیر کی آواز :
بحیثیت شہید امام حسین علیہ السلام کی مقدس قربانی میرے دل میں ثنا و صفت کا لا زوال جذبہ پیدا کرتی ہے کیونکہ انہوں نے تشنگی کی اذیت اور موت کو اپنے لیے، اپنے بچوں اور تمام خاندان کے لیے گوارا کر لیا لیکن ظالمانہ قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام کی ترقی اس کے ماننے والوں کی تلواروں کی مرہون منت نہیں ہے۔ بلکہ اس کے اپنے اولیائے کرام کی قربانیوں کا نتیجہ لے۔
ڈاکٹر ایچ ڈبلو، بی مورینوکا اظہار خیال :
امام حسین علیہ السلام اصول صداقت کے سختی کے پابند رہے۔ اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک مستقل مزاج اور غیر متزلزل رہے۔
انہوں نے ذلت پر موت کو ترجیح دی۔ ایسی روحیں کبھی فنا نہیں ہوتیں۔ اور امام حسین علیہ السلام آج بھی رہنمایان انسانیت کی فہرست میں بلند مقام کے مالک ہیں۔ وہ تمام مسلمانوں کے لیے روحانی پیغام عمل پہنچانے والے ہیں اور دوسرے مذہب کے پیرؤں کے واسطے نمونہ کامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر رادھا کمار مکرجی ( پروفیسر تاریخ صدر شعبہ تاریخ لکھنؤ یونیورسیٹی ) کا اظہار ِ تأثر :
تاریخ جن عظیم ترین کرداروں سے واقف ہے امام حسینؑ ان میں سے ایک ہیں فانی ہوکر لافانی تک پہنچ جانا محدود ہوکر لا محدود کو پالینا یہی ان کی زندگی تھی وہ تھے تو ایک فرد مگر انہوں نے اپنی ہستی کو وسعت دے کر پوری کائنات بنادیا اس طرح وہ انسانیت کی مجسم امید بن گئے ان کی زندگی بتاتی ہے کہ انسان کس طرح دیوتا ہوسکتا ہے؟ امام حسین علیہ السلام نہ کسی عہد کے ہیں نہ کسی ملک کے ..... ارضی حد بندیاں ان کی عظمت کو محدود نہیں کرسکتیں وہ تمام قوموں کیلئے مشعل راہ ہیں۔
سردار جسونت سنگھ کا اظہار رای (ایم، اے، بی، ایس، سی، این، ڈی، (لندن) :
دنیا کی تاریخ میں بے شمار لڑائیاں لڑی گئیں لیکن کربلا کی لڑائی اپنی اہمیت کے لحاظ سے بے حد نمایاں جنگ تھی کیونکہ یہاں ہم کو یہ دکھائی دیتا ہے کہ نیکی اور بدی کی قوتیں اپنے انتہائی درجہ کمال تک پنہچ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھیں۔حسین صداقت اور فرض شناسی کا مجسمہ تھے جو سختیاں ان کو برداشت کرنا پڑیں وہ اتنی اندوہناک ہیں کہ ایک سنگین دل کو بھی توڑ دیتی ہیں لیکن حسینؑ کے قدم کو ادائے فرض میں ذرا بھی لغزش نہیں ہوتی۔
پروفیسر بشمبر ناتھ سکسینہ کا اظہار خیال :
محمد ﷺ اور حسین اگر تاریخ اسلام سے ان دوناموں کو نکال دیجئے تو کچھ باقی ہی نہیں رہتا اول نے تعلیم دی اور ثانی الذکر نے عمل کر دکھایا اول نے آواز دی اور ثانی الذکر نے لبیک کہا۔اسلام مجموعہ ہے دو الفاظ کا علم اور عمل....... محمدﷺ علم تھے اور حسین عمل ، ان دونوں کے مجموعہ سے اسلام کی تاریخ بنتی ہے۔ اگر حسینؑ اپنے خون سے محمد ﷺ کے علم کو عمل نہ بناتے تو بعض معترفین کے نزدیک دین کا عملی پہلو کمزور ہو جاتا۔
کس قدر عظیم اور مقدس تھا وہ انسان جس نے اپنا خون دے کر دین کی تکمیل کردی اور معترفین کو اعتراض کا موقع نہ دینے کے لیے اپنی جان دینا گوارا کرایا۔
یقیناً حسین ابن علیؑ نے تاریخ کا وہ عظیم کارنامہ انجام دیاکہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بس یہی کہا جاسکتا ہے: ؎
|
اگر شہید اعظم حسینؑ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو دنیا اخلاق مذہب اور صداقت سے نا آشنا رہتی دنیا شہداء کی ممنون ہے ،امام حسین ؑ شہداے کے سردار ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے قربانی دی |
دین است حسینؑ دین پناہ است حسینؑ
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بناء لا الہ است حسینؑ
اسی لئے تو رسول ﷺ مقدس اسلام نے ارشاد فرمایا کہ
'' ان الحسین مصباح الھدی و سفینة النجاة''
حسینؑ ہدایت کا چراغ ہیں اور کشتی نجات ہیں، جو شخص ہدایت کا خواہاں ہو اور راہ ہدایت پر گامزن رہنا چاہے اسے چاہیئے کہ حسین ؑسے متمسک ہوجائے کیونکہ حسینؑ کے بغیر ہدایت بے معنی ہے۔یہی تو وجہ ہے کہ جو بھی حسینؑ سے متمسک ہوگیا چاہے حیات امام حسینؑ میں یا شہادت امام کے بعداس نے سعادت ابدی حاصل کرلی گرچہ اس نے اپنی تمام زندگی گمراہی میں بسر کی ہو لیکن وقت آخر اور زندگی کے آخری لمحات میں حسینؑ سے متمسک ہوکر نجات حاصل کرلی۔ اس کی زندہ مثال جناب حر علیہ السلام ہیں کہ تمام زندگی گمراہی اور ضلالت میں بسر کی اور آخری لمحات میں حسینؑ سے متمسک ہوکر لائق تعظیم و احترام اور علیہ السلام کے مصداق قرار پائے۔امام حسین ؑ نے اپنی حیات میں انسان کو حیات ابدی اور سعادت ابدی کے ساتھ ساتھ عزت و سر بلندی اور انسانیت کا درس دیا اور شہادت کے بعد حسینیؑ انقلاب یہی درس تا قیام قیامت پیدا ہونے والے ہر انسان کو دیتا رہے گا۔
تاریخ کربلا انسانی ضمیر کو جھینجوڑ کر ، اسکی فکر کو بیداری عطاکرتی ہے اور اسے درس ایثار، جذبہ قربانی و فداکاری، صبر و استقلال، شجاعت و شہامت کے ساتھ ساتھ جذبہ شہادت بھی عطا کرتی ہے۔لہٰذا شخصیت امام حسین کسی ایک قوم و ملت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ حسین ؑ کی کشتیٔ نجات پر ہر طالب ہدایت کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے چاہے وہ کسی بھی قوم و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔
چنانچہ امام حسین ؑ نے وہب کلبی نصرانی کو کشتی ٔ نجات پر سوار کر کے ساحل سعادت تک پہنچادیا۔
خلاصہ کلام یہ ہےکہ کربلا ہدایت کا وہ بحر بے کراں ہے جو طالب حق و حقیقت کو کشتی ٔ نجات پر سوار کر کے منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔
حسینؑ نے کربلا کے میدان میں حق و ہدایت کی راہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے باطل کی راہ سے جدا کر کے انسانیت پر احسان کیا اور ‘‘محسن انسانیت’’ کے مصداق بن گئے۔
((سید علیم حیدرزیدی سرسوی))
روایات ائمہ معصومین ؑمیں زیارت سید الشہداؑء اور انکے جانثار اصحاب کی بہت فضیلت اور تاکید کی گئی ہے ائمہ ؑسے مروی مختلف روایات میں امام حسینؑ کی زیارت کے مختلف فضائل، آثار و ثواب بیان کئے گئے ہیں ہم یہاں پر اپنے قارئین کے لئے چند روایات کو اختصار کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔
روایت میں آیا ہے کہ زائر کے تمام متقدم و متأخرگناہ بخش دیئے جائیں گے اور اسے آتش جھنم سے نجات ملے گی۔
((حدثنی محمد بن عبداللہ بن جعفر الحمیری عن ابیہ ، عن علی بن محمد سالم، عن محمد بن خالد، عن عبداللہ بن حماد البصری، عن عبداللہ بن عبد الرحمن الاصم، عن عبداللہ بن مسکان (( قال: شھدت ابا عبد اللہ و قد اتاہ قوم من اھل خراسان فسالوہ عن اتیان قبر الحسین بن علی و ما فیہ من الفضل، قال: حدثنی ابی، عن جدی انہ کان یقول: من زارہ یرید بہ وجہ اللہ اخرجہ اللہ من ذنوبہ کمولود ولدتہ امہ و شیعتہ المکائکةفی مسیرہ فر فرفت علی راسہ ود صفوا باجنحتھم علیہ حتی یرجع الی اھلہ، و سالت الملائکة المغفرة لہ من ربہ و غشیتة الرحمة من عنان السمائ، و نادتہ الملائکة : طبت و طاب من ذرت ! و حفظ فی اھلہ)) ( کامل الزیارات باب ٥٧ ح ٥ ص ٤٧٦)
عبد اللہ بن مسکان کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادقؑ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا در حالیکہ خراسان کا ایک گروہ امام کی خدمت میں مشرف تھا۔اہل خراسان نے امام سے زیارت امام حسین ؑکے ثواب کے متعلق سوال کیا امام جعفر صادق ؑنے فرمایا کہ میرے والد گرامی نے میرے جد سے نقل کیا ہیکہ وہ فرماتے تھے جو امام حسینؑ کی زیارت کرے اور اس کی نیت قصدقربت ہو تو خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو محو کردیگا اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دیگا جس طرح سے بچہ ماں کے بطن سے پاک و پاکیزہ باہر آتا ہے اور زائر کے اپنے گھر پہنچنے تک فرشتے سیر و سفر میں اس کی مشایعت کرتے ہیں یعنی اپنے پروں سے اسکے سر پر سایہ کرتے ہیں بغیر اس کے کہ وہ اپنے پروں کو حرکت دیں فرشتے اس کے لئے پروردگار عالم سے طلب مغفرت کرتے ہیں آسمان کی رحمت اکناف و اطراف سے اس پر سایہ فگن رہتی ہے اور ملائکہ اسکو ندا دیتے ہیں کہ تو خود بھی پاک ہے اور پاک و پاکیزہ ہے وہ شخص جس نے تیری زیارت کی، اور زائر کے وطن پہنچنے تک اس کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں۔
دوسری روایت میں آیا ہیکہ خداوند عالم زائر کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے گر چہ اس کے گناہ کف دریا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
((و حدثنی عبید اللہ بن الفضل بن محمد بن ھلال قال: حدثنا عبد الرحمن قال: حدثنا سعید بن خیثم، عن اخیہ ((قال : سمعت زید بن علی یقول : من زار قبر الحسین بن علی لا یرید بہ الا (وجہ) اللہ تعلی غفر اللہ لہ جمیع ذنوبہ ولو کانت مثل زبد البحر، فاستکثروا من زیارتہ یغفر اللہ لکم ذنوبکم ))
سعد بن خیثم نے اپنے بھائی معمر سے روایت نقل کی کہ انہوں نے زید بن علی سے سنا ہیکہ وہ فرماتے ہیں جو کوئی بھی امام حسین ؑکی قبر کی زیارت کرے گا اور اسکی نیت قصد قربت ہو تو خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو معاف کردیگا اگر چہ اس کے گناہ کف دریا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، تم زیادہ سے زیادہ زیارت کرو تاکہ خدا وند عالم تمہارے گناہوں کو بخش دے ۔
زائر کی ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔
روایت میں آیا ہیکہ زائر جو بھی حاجت طلب کرے خدا وند عالم اس کی حاجت کو پورا کردیتا ہے۔
((حدثنی محمد بن عبد اللہ بن جعفر، عن ابیہ، عن احمد بن ابی عبد اللہ البرقی، عن ابیہ، عن محمد بن سنان، عن حذیفة بن منصور ((قال: قال ابو عبد اللہ : من زار قبر الحسین للہ و فی اللہ اعتقہ اللہ من النار و آمنہ یوم الفزع الاکبر، و لم یسال اللہ تعالی حاجة من حوائج الدنیا و الآخرالا اعطاہ))۔
حذیفہ بن منصور کہتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا جو کوئی بھی ہمارے جد حسین ؑکی زیارت بہ قصد قربت کرے خدا وند عالم اسکو آتش جہم سے آزاد کر دیگا اور اس کی دنیاوی اور اخروی حاجات کو پورا کردیگا۔
ائمہ اطہار ؑسے مروی روایات میں امام حسینؑ کی زیارت کو افضل ترین عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
((حدثنی ۔رحمہ اللہ ۔ و جماعة من اصحابنا، عن سعد بن عبداللہ، عن احمد بن محمد بن عیسی، عن الحسن بن علی الوشائ، عن احمد بن عائذ،عن ابی خدیجة، عن ابی عبد اللہ (( قال: سالتہ عن زیارتہ قبر الحسین ، قال: انہ افضل ما یکون من الاعمال))۔
ابی خدیجہ نے امام جعفر صادقؑ سے زیارت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ امام حسینؑ کی زیارت افضل اعمال میں سے ہے۔روایت میں آیا ہیکہ جس نے زمین پر امام حسینؑ کی زیارت کی گویا اس نے عرش پر خدا کی زیارت کی۔
چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ:
((حدثنی ابی، و علی بن الحسین ؛ و جماعة مشایخی۔ رحمھم اللہ۔ عن سعد بن عبد اللہ، عن احمد بن محمد؛ و محمد بن الحسین، عن محمد ابن اسماعیل بن بزیع، عن صالح بن عقبة، عن زید الشحام ((قال: قلت لابی عبد اللہ : ما لمن زار قبر الحسین ؟ قال: کان کمن زار اللہ فی عرشہ، قال: قلت: ما لمن احداً منکم؟ قال: کمن زار رسولۖ اللہ))۔
زید بن شحام کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق ؑسے امام حسین ؑکی زیارت کے متعلق عرض کی کہ جو انکی قبر مطہر کی زیارت کرے اسکا ثواب کیا ہے؟تو آپ نے فرمایا اس کی مثال اس شخص کی ہے جس نے عرش پر خدا کی زیارت کی ہو۔راوی کہتا ہیکہ میں نے امام جعفر صادق ؑسے پوچھاکہ اس شخص کیلئے کیا اجر و ثواب ہے جس نے آپ اہل بیت ؑمیں سے کسی کی زیارت کی ہو؟آپؑ نے فرمایا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول خدا ﷺ کی زیارت کی ہو۔
امام جعفر صادقؑ دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ: ۔
((و حدثنی ابی ۔ رحمہ اللہ ۔ و جماعة مشایخی، عن سعد بن عبد اللہ، عن الحسن بن الکوفی، عن عباس بن عامر، عن ربیع بن محمد المسلی عن عبد اللہ بن مسکان، عن ابی عبداللہ (( قال: من اتی قبر الحسین کتبہ اللہ فی علیین))۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہیکہ خد اوند عالم زائر حسین ؑکو اعلی علیین میں جگہ مرحمت فرماتا ہے۔
زیارت امام حسینؑ اور ائمہ معصومین ؑرزق میں برکت اورطولانی عمر کا باعث ہے۔
((حدثنی ابی ۔ رحمہ اللہ۔ و جماعة مشایخی، عن سعد بن عبد اللہ؛ و محمد بن یحیی العطار؛ و عبد اللہ بن جعفر الحمیری جمیعاً، عن احمد بن محمد بن عیسی، عن محمد بن اسماعیل بن بزیع، عن ابی ایوب، عن محمد بن مسلم، عن ابی جعفر قال:مروا شیعتنا بزیارة قبر الحسین ، فان اتیانہ یزید فی الرزق، و یمد فی العمر، و یدفع مدافع السوء و اتیانہ مفترض علی کل مومن یقر للحسین بالامامة من اللہ عز وجل))۔
امام محمد باقرؑ ارشاد فرماتے ہیں ہمارے شیعوں کو امام حسینؑ کی زیارت کا حکم کرو کیونکہ ہمارے جد کی زیارت رزق میں برکت اور طویل عمر کی وجہ بنتی ہے اور اسباب شر کو دفع کرتی ہے امام حسینؑ کی زیارت ہر مومن پر جو آپ کی امامت کو خدا وند عالم کی جانب سے قبول کرتا ہے اس پر فرض و لازم ہے۔
اسی حدیث جیسی دوسری حدیث قارئین کے لئے نقل کر رہے ہیں :
((حدثنی ابی۔ رحمہ اللہ ۔ عن سعد بن عبد اللہ بن وضاح، عن داود الحمار، عن ابی عبد اللہ ((قال: من لم یزر قبر الحسین فقد حرم خیراً کثیراً و نق من عمرہ سنة))۔
داود حمار نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہےکہ آپ فرماتے ہیں جس نے قبر امام حسینؑ کی زیارت نہ کی تو وہ خیر کثیر سے محروم ہوگیا اس کی عمر ایک سال کم ہوگئی۔ائمہ اطہار علیھم السلام نے زیارت امام حسینؑ کے ثواب و اجرکو سو حج کے ثواب کے برابر قرار دیا ہے۔بعض دیگر روایات میں اس سے زیادہ اجر و ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔
((حدثنی ابی ۔ رحمہ اللہ ۔ عن سعبد بن عبد اللہ، عن محمد بن الحسین ابن ابی الخطاب، عن محمد بن سنان، عن محمد بن صدقة، عن صالح النیلی
(( قال: قال ابو عبد اللہ : من اتی قبر الحسین عارفاً بحقہ کان کمن حج مائة حجة مع رسول اللہ ۖ)) ‘‘امام جعفر صادق نے ارشاد فرمایا ہیکہ جو شخص امام حسینؑ کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے اس کو سو حج کا ثواب عطا کیا جائے گا ’’۔
((حدثنی محمد بن جعفر الرزاز الکوفی، عن محمد بن الحسین الزیات، عن محمد بن سنان، عن محمد بن صدقة، عن صالح النیلی (( قال: قال ابو عبد اللہ : من اتی قبر الحسین عارفاً بحقہ کتب اللہ لہ اجر من اعتق الف نسمة، وکمن حمل علی الف فرس فی سبیل اللہ مسرجة ملجمة))۔
صالح نیلی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق ؑنے فرمایا جو کوئی امام حسین ؑکے حق کی معرفت ساتھ زیارت کو جائے تو
خدا وند عالم اس کو ہزار غلام راہ خدا میں آزاد کرنے کا ثواب دیگا اور اس کا ثواب اس طرح ہیکہ ہزار گھوڑوں کو زین لگائی اورلجام لگائی اور راہ خدا میں انکے ساتھ جہاد کیا گیا ہو۔زوار امام حسینؑ دوسروں کی شفاعت کرینگے۔
((حدثنی ابی۔ رحمہ اللہ ۔ و محمد بن الحسن، و علی بن الحسین جمیعاً، عن سعد بن عبد اللہ، عن محمد عیسی بن عبید، عن صفوان بن یحیی ۔ عن رجل۔عن سیف التمار، عن ابی عبد اللہ (( قال: سمعتہ یقول: زائر الحسین مشفع یوم القیامة لمائة رجل کلھم قد وجبت لھم النار ممن کان فی الدنیا من المسرفین ))
سیف تمار امام جعفر صادقؑ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام سے سنا ہیکہ امام جعفرصادقؑ نے فرمایا کہ زائر امام حسینؑ قیامت کے دن سو دوزخی لوگوں کی شفاعت کریگا اور ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جو دنیا میں مسرفین میں سے تھے۔زیارت امام حسینؑ غم و اندوہ کو بر طرف کرتی ہے اور زیارت کے واسطہ سے دنیاوی حاجتیں بر آتی ہیں۔
((حدثنی ابوالقاسم جعفر بن محمد بن ابراھیم بن عبد اللہ الموسوی العلوی، عن عبید اللہ بن نھیک، عن ابن ابی عمیر ، عن ھشام بن الحکم، عن فضیل بن یسار(( قال: قال ابو عبد اللہ : ان الی جانبکم قبراً ما اتاہ مکرب الا نفس اللہ کربتہ، وقضی حاجتہ))۔امام جعفر صادقؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ زیارت امام حسینؑ غم و اندوہ کو بر طرف کرتی ہے اور زیارت کے واسطہ سے دنیاوی حاجتیں بر آتی ہیں۔
((سید شارب علی زیدی اعظمی))
پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا کہ(( ان لقتل الحسین حرارة فی قلوب المومنین لا تبرد ابدا ))
‘‘ حسین ؑکے قتل کی گرمی مومنین کے دل میں ہمیشہ رہے گی کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہوسکتی’’۔
امام حسین ؑوہ شہید ہیں جن کا پورا خاندان شہید ہے ہم لوگ سلام کرتے ہیں '' السلام علیک ایھا الشہید وابن الشہید '' سلام ہو آپ پر اے شہید فرزند شہید آ پ وہ شہید ہیں جن کے متعلق امام زمانہؑ زیارت ناحیہ میں ارشاد فرماتے ہیں :سلام ہو میرا اس مظلوم امام پر جسکا لاشہ نہ زین پر تھا نہ زمین پر بلکہ تیروں پر معلق تھا امام حسینؑ کی ولادت کے بعد تمام ملائکہ پیغمبر اسلام ﷺکی خدمت میں آئے اور مبارک باد پیش کی جبرئیل ؑنے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺیہ آپ کا فرزند حسینؑ تین دن کا بھوکا پیاسا کربلا کے میدان میں قتل کیا جائے گا اور تمام ملائکہ نے آپؐ کی خدمت میں تعزیت پیش کی ۔(لہوف ، سید ابن طاؤس)
امام حسین ؑپر تمام مخلوقات روتی ہیں :
((حدثنی محمد ابن جعفر الرزاز القرشی،قال :حدثنی خالی محمد ابن حسین بن ابی الخطاب، عن محمد ابن اسماعیل بن بزیع، عن ابی اسماعیل السراج، عن یحیی بن معمر العطار، عن ابی بصیر، عن ابی جعفر : قال بکت الانس والجن و الطیر و الوحش علی الحسین ابن علی حتی ذرفت دموعھا))۔
امام محمد باقر ؑنے فرمایا انسان، جن، پرندے، اور وحشی جانور امام حسینؑ پر سب گریہ کرتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے آنسوں جاری ہوجاتے ہیں۔ (کامل الزیاراتباب ٢٦ ح ١ صفحہ ٢٥١)
روایت میں آیا ہے کہ امام حسینؑ پر وحشی جانور صبح و شام روتے ہیں:
((حدثنی ابی ۔رحہ اللہ تعلی ۔ و علی بن الحسین ، عن سعد ابن عبداللہ ، عن احمد بن محمد بن عیسیٰ، عن احمد بن ابی داؤد، عن سعد بن عمر الجلاب، عن الحارث الاعور، ((قال :قال علی : بابی و امی ؛ الحسین المقتول بظہر الکوفة، واللہ کانی انظر الی الوحوش مادة اعناقھا علی قبرہ من انواع الوحش، یبکونہ و یرثونہ حتی الصباح، فاذا کان ذلک فایاکم والجفائ))۔
حضرت علی ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ ‘‘میرے ماں باپ فداء ہوجائیں’’ حسینؑ پشت کوفہ شہید ہونگے خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ وحشی جانور امام حسینؑ کی قبر مطہر پر گردن رکھ کر رورہے ہیں اور رات سے صبح تک یہ مرثیہ پڑھتے ہیں جب وحشی جانوروں کا یہ حال ہے تو تم ''انسانوں'' امام حسینؑ پر رونے میں جفاء مت کرو۔ (کامل الزیارات باب٢٦ح ٢ص٢٥٢ )
جب امام حسینؑ شہید ہوئے تو دنیا میں کوئی ایسی شیٔ نہیں تھی جس نے گریہ و تعزیت پیش نہ کی ہو۔
((و حدثنی محمد بن جعفر القرشی الرزاز، عن محمد بن الحسین بن ابی الخطاب، عن الحسن بن علی بن ابی عثمان، عن عبد الجبّار النہاوندی، عن ابی سعید، عن الحسین بن ثویر بن ابی فاختہ و یونس ابن ظبیان، و ابی سلمة السراج، والمفضل بن عمر کلہم قالوا: (( سمعنا ابا عبداللہ یقول : ان ابا عبداللہ الحسین بن علی لما مضی بکت علیہ السموات السبع و الرضون السبع وما فیہن وما بینھن من ینقلب علیہن والجنة النار،وما خلق ربنا و ما یری و مالا یری))۔
حسین ابن ثویر بن ابی فاختہ و یونس بن ظبیان و ابی سلمہ سراج و مفضل بن عمر یہ سب کہتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے کہ امام جعفرصادقؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب امام حسینؑ شہید ہوئے ساتوں آسمان اور ساتوں طبقہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے اور تمام مخلوقات اور جو کچھ اس کے درمیان میں پیدا ہوتی ہے اور جنت اور دوزخ اور تمام اشیاء کہ جنکو ہمارے پروردگار عالم نے پیدا کیا ہے اور تمام موجودات جو دیکھی جاتی ہے اور وہ تمام موجودات جو دیکھی نہیں جاتی یہ سب امام حسینؑ پر گریہ کرتی ہیں۔
(کامل الزیارات باب ٢٦ ح ٣ ص ٢٥٣)
جب امام حسینؑ اپنے خاندان اور اپنے جاں نثار اصحاب کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے تھے تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو روئی نہ ہو مگر چند لوگ تھے جو نہیں روئے۔
((و حدثنی ابی ۔ رحمہ اللہ ۔ عن سعد بن عبد اللہ، عن الحسین بن عبید اللہ، عن الحسین بن علی بن ابی عثمان، عن عبد الجبار النہاو ندی، عن ابی سعید، عن الحسین بن ثویر؛ و یونس؛ و ابی سلمة السراج؛ المفضل بن عمر (( قالوا : سمعنا ابا عبد اللہ یقول: لما مضی الحسین بن علی بکی علیہ جمیع ما خلق اللہ الا ثلثة اشیآء البصرة ودمشق و آل عثمان))۔
حسین بن ثویرہ ابی سلمہ سراج و مفضل و مفضل بن عمر یہ سب کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق ؑسے سنا ہیکہ آپ فرماتے ہیں جب میرے جد حسین ؑشہید ہوئے ان پر تمام مخلوقات نے گریہ کیا مگر تین اشیاء نے (یعنی گریہ نہیں کیا )
١۔ بصرہ، ٢۔ دمشق، ٣۔ آل عثمان۔ (کامل الزیارات باب ٢٦ ح ٤ ص ٢٥٤)۔
امام حسینؑ کی قبر مطہر پر ہزاروں کی تعداد میں فرشتے گریہ و بکاء کرتے ہیں یہاں تک کہ کچھ آسمان پر چلے جاتے ہیں پھر دوسرے آتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں۔ہم مومنین کیلئے روایت ذکر رہے ہیں۔
((وحدثنی ابی ۔رحمہ اللہ ۔ عن بعد بن عبداللہ، عن الحسن بن علی بن عبداللہ بن المغیرہ، عن العباس بن عامر، عن أبی حمزة الثمالی، عن ابی عبداللہ ((قال : ان اللہ و کل بقبر الحسین اربعة آلاف ملک شعث غبر یبکونہ من طلوع الفجر الی زوال الشمس، فاذا زالت الشمس ھبط اربعة آلاف ملک و صعد اربعة آلاف ملک، فلم یزل یبکونہ حتی یطلع الفجر۔ و ذکر الحدیث۔ ))۔
ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق ؑنے فرمایا کہ خدا وند عالم نے چار ہزار فرشتوں کو قبر مطہر امام حسینؑ پر موکل قرار دیا ہیکہ وہ غمگین اور محزون ہوتے ہیں اور امام حسین ؑ پر طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک گریہ و بکاء کرتے ہیں پھر دوسرے چار ہزار فرشتے زمین پر آتے ہیں وہ غمگین و محزون ہوتے ہیں اور زوال آفتاب سے صبح فجر تک گریہ و بکاء کرتے ہیں۔(قارئین) ملاحظہ فرمائیں کہ یہ حسینؑ کون ہیں، شرافتِ خونِ ابوطالب کا خوبصورت لقب حسینؑ ، فاطمہ زہراءؑ کے مقدس دودھ کی تاثیر حسینؑ ، علی مرتضی ؑکے زور بازو کی بولتی تصویر حسینؑ ، خواب ابراہیم کی تعبیر ؑ ، اسماعیل کے جذبۂ اطاعت کو ذبح عظیم کا درجہ دینے والا حسین ؑ، انسانیت کو سر بلندی اور سرفرازی کے ساتھ زندگی گذارنے کا درس دینے والا حسینؑ ، انسانیت کا فاتح اعظم حسینؑ ، اسلام کا نجات دہندہ حسینؑ، قرآن کی عظمتوں کو حیات ابدی عطاء کرنے والا حسینؑ ، وہ حسین ؑکہ جسکو شعراء نے یہ کہکر خراج عقیدت پیش کیا کہ حسین ؑ، ؎
یہ انی پر سر نہیں تیری انا کا تاج ہے
کربلا تیرے نظام فکر کی معراج ہے
|
سجدوں کی لذت سے آشنائی چاہتے ہو تو حسین ؑکا دامن تھامنا پڑیگا ذوقِ نمازکے تمنائی ہو تو بارگاہ ِ شبیری ؑسے رابطہ قائم کرو، ان سے درسِ حیات اور طریقِ سجدہ ریزی سیکھو، حسین ؑکے ایک سجدے پر امت کے لاکھوں سجدے قربان ہمارے سجدے بے سرور، حضور حسین ؑکے سجدوں میں حضور کا نور |
سجدۂ شبیؑر کو نا تمام سمجھنے والو! روح اسلام کواسلام سے نکال دو گے تو باقی کیا رہے گا جسے تم اسلام کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرسکو تمہارا گمان ہے کہ لمبی لمبی نمازیں پڑہنے سے تمہیں جنت کا ٹکٹ مل جائے گا لیکن یہ غلط ہے جب تک اس نماز کی عزت نہیں کروگے جو تلواروں کے سائے میں ادا کی گئی تمہاری نمازیں تمہیں کچھ نفع نہیں دے سکے گی اگر حسینؑ کے اس سجدے میں کمی ہے جو زیر خنجر ادا کیا گیا تھا تو تم سوچو کہ تمہارے بے کیف و بے حضور سجدوں میں کیا رکھا ہے سجدہ تو وہی ہے جو حسین نے ادا کیا ، نماز تو وہی تھی جو فاطمہ ؑکے لال نے پڑھی۔
دیکھ ! آئینہ تیغ میں اسے حسن یار کی دید ہے
جو نثار سجدے میں سر کرے وہ امام ہے شہید ہے
سنو! بے ذوق سجدوں کے نشانوں سے جبین سیاہ کرلینے والو، یزید کے حواریو! مقام سجدہ ریزی کیا ہے؟
بغیر سر فروشی آدمی زندہ نہیں ہوتا
مذاق زندگی بے سروئے پیدا نہیں ہوتا
جو رسماً ہم کیا کرتے ہیں ممکن وہ بھی سجدہ ہو
مگر بے سر کٹائے عشق کا سجدہ نہیں ہوتا
سجدوں کی لذت سے آشنائی چاہتے ہو تو حسین ؑکا دامن تھامنا پڑیگا ذوقِ نمازکے تمنائی ہو تو بارگاہ ِ شبیری ؑسے رابطہ قائم کرو، ان سے درسِ حیات اور طریقِ سجدہ ریزی سیکھو، حسین ؑکے ایک سجدے پر امت کے لاکھوں سجدے قربان ہمارے سجدے بے سرور، بے حضور حسین ؑکے سجدوں میں حضور کا نور، ہمارے سجدوں میں نہ ذوق نہ کمال حسین ؑکے سجدوں میں لذت ِ وصال، ہمارے سجدے بے دستور بے آئین حسین ؑکے سجدوں میں الصلاة معراج المومن، ہمارے سجدوں میں وسوسہ کا روبار حسین ؑکے سجدے میں جلوۂ حسن یار، حسینؑ تیرے سجدے کے سرخ نشانوں پر امت کی جبینیں نثار ملائکہ کے سجدے قربان۔
سجدے تو سب نے کئے تیرا نیا انداز ہے
تونے وہ سجدہ کیا جس پر خدا کو ناز ہے
بہر حال بتانا یہ تھا کہ حسینؑ نے زیر ِخنجر نماز ادا کرکے شہادت کی عروسہ کو اور بھی نکھار دیا ہے اور دنیا والوں کو بتادیا ہے کہ ،
نہ مسجد میں نہ بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں نماز ِ عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے امام عالی مقام کی عظمتیں اور فضیلتیں اپنے عنبریں گیسو سنوارے نظر آتی ہیں، امام الانبیاء صحاباء کرام کے درمیان خطبہ دے رہے ہیں پانچ چھ سال کی عمر کے دو شہزادے سرخ قمیص زیب تن کئے حجرۂ فاطمہ ؑ سے نکل کر نانا کی طرف بڑھ رہے ہیں راستہ کی ناہمواری کی وجہ سے ٹھوکر لگتی ہے اور گر پڑتے ہیں امام الانبیاء نے نواسے کو گرتے دیکھا تو تڑپ گئے اور بیتاب ہوکر خطبہ پورا کئے بغیر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور بڑھ کر دونوں کو آغوش میں لیااوردونوں کو گود میں بٹھا کر دوبارہ خطبہ شروع کیا۔
|
شرافتِ خونِ ابوطالبؑ کا خوبصورت لقب حسینؑ ، فاطمہ زہراءؑ کے مقدس دودھ کی تاثیر حسینؑ ، علی مرتضی ؑکے زور بازو کی بولتی تصویر حسینؑ ، خواب ابراہیم کی تعبیر ؑ ، اسماعیل کے جذبۂ اطاعت کو ذبح عظیم کا درجہ دینے والا حسین ؑ |
حسین ؑگلشن اسلام کی بہار ہے، مملکت حق و صداقت کا تاجدار ہے، صبر ورضا کی سلطنت کا شہریار ہے، حسینؑ مہر نبوت کا سوار ہے،حسین ؑروشنی کا مینار ہے، حسینؑ مطلع انوار ہے، محمد ﷺعربی کے دل کا قرار ہے، حجرۂ فاطمہ ؑکی بہار ہے، خالق کائنات کا عظیم شہکار ہے، نوجوانان جنت کا سردار ہے، شیہدان محبت کا قافلہ سالار ہے، حسین ؑعزم و یقین کی تلوارہے، حسین ؑکا چہرہ مطلع انوار ہے،حسین ؑکادیدار محمد ﷺ عربی کا دیدار ہے، صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ چودہویں کا چاند پوری آب و تاب سے آسمان پر چمک رہا تھا اور مدینہ کا چاند مسجد نبوی کے کھلے صحن میں محوِ استراحت تھا ہم کبھی آسمان کے چاند کو دیکھتے اور کبھی زمین کے چاندکو ، پھر ہماری نگاہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ آمنہ کے چاند کے چہرۂ انور کی تجلیات کے سامنے آسمان کے چاند کا حسن پھیکا پڑ گیا یہ آمنہ کے چاند کی بات تھی فاطمہؑ کا چاند اس چاند کا مظہر اتم اور عکس جمیل تھا نانا کے حسن کی تجلیات کا نواسہ کے رخ انور سے پورا پورا ظہور ہوتا تھا ۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ جب حسین ؑاندھیرے میں تشریف فرماہوتے تو آپ کی پیشانی ٔ مبارکہ اور نورانی عارضوں سے روشنی کی کرنیں پھوٹ پھوٹ کر قرب و جوار کو منور اور درخشاں کردیتیں امام حسینؑ کو ایک خود غرض سیاسی انسان بناکر پیش کرنے والو! غور کرو حسین ؑکون ہیں اور کس کانور ہے ، یوں تو ہر شخص اپنی اولاد کو پیار کرتا ہے مگر جو پیار جو محبت اور جو عشق سرور کائنات ؐ کا اپنے نواسوں سے ہے اس کی مثال پیش ہی نہیں کی جاسکتی،مثال آئے گی کہاں سے نانا بھی بے مثال ہیں اور نواسوں کی شہادت بھی بے مثال ہے آپ ؐ کو معلوم تھا کہ میرا حسین ؑایک دن دم توڑ تے ہوئے دین کو زندگی دینے والا ہے۔
((محمد حسین بھشتی))
حضرت امام حسین علیہ السلام کی شخصیت وہ عظیم الشان شخصیت ہے جس کو ہر دور میں دنیا کے عظیم رہنماؤں، بزرگ علماء و دانشور، شعراء اور قائدین اقوام و ملل نے خراج تحسین پیش کیا ہے علاوہ از این مختلف مفکرین، مفسرین علماء و مجتہدین اور صوفیائے کرام، اولیاء عظام، مردان حق آگاہ، قلندران باصفاء نے اپنے اپنے مخصوص انداز فکر میں سید الشہداء ؑکے حضور اپنے اپنے گلہائے عقیدت پیش کئے ہیں۔ مفکرین عالم نے حضرت امام حسین ؑسے فکر و تدبر کا درس لیا۔ عزاداری امام حسینؑ آج بھی ہمارے سامنے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے مگر اب بھی حضرت کی عظمت اور بے نظیر شخصیت کما حقہ واضح اور روشن نہیں ہو سکی ہم یہاں پر حضرت کے انقلابی اور بنیادی اصولوں کو بیان کریں گے جس سے موجودہ زمانے کی مشکلات پر قابو پا نے میں مدد ملے گی۔
۱: ذہنی انقلاب:
بجھا دیں شب عاشور مشعلیں لیکن
چراغ ذہن کی لو تیز کرگئے شبیؑر
امام علیمقام نے ذہنی انقلاب برپا کرنے کی انتھک کوشش و سعی کی کیونکہ اگر ذہن بیدار ہوجائے فکر کو بلند پرواز مل جائے تو یہ انقلاب انسان کو گمراہی کے دلدل سےنکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔ پھر انسان کے قدم کسی مقام پر لغزش کا شکار نہیں ہوتے بلکہ انسان حوادث کا خندہ پیشانی کے ساتھ استقبال کرتا ہے۔
یہ آج جو ایک گونج ہے آزادی کی
یہ بھی ہے حسین ابن علؑی کی آواز
۲: اخلاقی انقلاب :
تار ما از زخمہ اش لرزاں ھنوز
تازہ از تکبیر او ایمان ھنوز
حضرت امام حسینؑ کی ذات اور ان کے عظیم کارنامے اخلاقی اصولوں کی کامیابی اور فتح تھی مذہب اور روحانیت کی فتح تھی مادیت اور روحانیت میں روز اول سے جنگ رہی ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ فگن نئے
وہی فطرت اسد اللہی، وہی مرحبی، وہی عنتری
آخر فتح ہمیشہ حق کی ہوا کرتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے بزعم کثرت الناس اور دولت و طاقت کے بل پر حق سے ٹکر لی ، نتیجہ کیا ہوا؟ کہ حرف غلط کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔مگر حسین ؑباقی ہے۔
حسین ؑکل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ وہ اس لیے کہ روز عاشورا چند لمحوں میں اپنے خون حق سے خاک صحراء پر وہ تاریخی بشریت و حریت ثبت کردی کہ جس کی نظیر ڈھونڈے نہیں ملتی۔
بر زمین کربلا با رید و رفت
لالہ در و یزانہ ہا کا ریدو رفت
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او حسین ایجاد کرد
امام عالیمقام، سبط رسول انامؐ، حسینؑ نے تیغ '' لا '' کی ایک ضرب کاری سے قیامت تک لیے بازار ظلم و ستم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کردیا، استبداد کا قلع قمع کر ڈالا اور اسلام کے پژمردہ چمن کی آبیاری اپنے خون سے یوں کی کہ گلشن اسلام لہلہا اٹھا۔ بلا شبہ حسین ؑنے راہ حق و صداقت میں جان کی بازی لگا کر استبداد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔اب تابہ قیامت باطل پنپ نہیں سکتا۔
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نے نجات ما نوشت
۳: اسلامی اصولوں کی حفاظت و نشر و اشاعت
تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ دین است و بس
بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
ایک مکتب کی سچائی کی شان یہ ہے کہ اس کے قائدین کا ثابت قدم اور استقلال کے ساتھ مصائب کو برداشت کرنا اور آخر وقت تک اپنے اصول سے منحرف نہ ہونا تاریخ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ محمد ﷺ امن اور صلح جوئی کی اعلیٰ مثال تھے لیکن کہیں تیغ برّاں بے نیام بھی کی تو وہ حفظ دیں '' بقائے اسلام '' تحفظ شریعت کے لیے ۔
جب ہم اپنی تاریخ پر گہری نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں کہیں کہیں ان مردان حق جنہوں نے اثبات حقاور باطل کے ابطال کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا کر پرچم اسلام کو بلند رکھا اور اسلام کی ڈوبتی نائو کو پار لگانے کے کچھ ایسے بھی سرفروش مل جائیں گے۔ جہلوں نے خاک و خون کے دریا کو پاٹ کر یہ فریضہ ادا کیا۔ سرکار امام حسینؑ کی قربانی کوئی خاموش قربانی نہ تھی بلکہ آپ عملی قربانی کے ساتھ ساتھ برابر اپنی زبان سے بھی حقیقی اسلام کی دعوت دیتے رہے اور اپنے کردار سے بھی احکام اسلام کی عظمت دلوں میں قائم کرتے رہے۔
۴:حریت :
در نوائے زندگی سوز حسین
اہل حق حریت آموز از حسین
کربلا والوں نے یہ بتادیا کہ اگر انسان اپنی خواہشوں اور نفس کے تقاضوں سے آزاد ہو کر زندگی بسر کریں تو دنیا کا کوئی ظالم انہیں غلام نہیں بناسکتا۔ سرکار امام حسینؑ آزادیٔ افکار، حریت ضمیر کے ایک عظیم علمبردار ہیں۔آپ نے حریت کے لیے وہ بے مثال قربانیاں راہ خدا میں پیش کیں جن کی نظیر ڈھونڈے نہیں ملتی۔ اہل حق نے امام حسین ؑہی سے حریت اور آزادی کا سبق سیکھا ہے۔
۵: ثابت قدمی:انتہائی کٹھن اور مشکل منزل کے سامنے آنے پر ثابت قدم رہنا ایک بہت بڑی بہادری ہے اس حوالے سے کربلا ہمارے لیے ایک درس ابدی ہے۔
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
آج ہم اپنی مشکلات اور مصائب کا حل کربلا والوں کی سیرت پر چل کر ہی کر سکتے ہیں اس حوالہ سے مرحوم شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے کیا خوب کہا ہے۔
|
اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ اے قوم وہی پھر تباہی کا زمانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ تران مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسینؑ ابن علی ؑہو
|
آئیے ہم کربلا والوں پر نظر کرتے ہیں وہاں پر بچہ بچہ اپنے قول و فعل کی بے نظیر مثال پیش کرتا نظر آتا ہے۔ دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ میدان کربلا میں ہزاروں مصائب کے سیلاب تھے جو آتے تھے اور اس پر عزم و استقلال ساحل سے ٹکرا کر واپس چلے جاتے تھے گویا ان تمام مصائب کے ہجوم میں حسینؑ کی زبان پر یہ شعر جاری تھا۔
ان کان دین محمد لم یستقم
الا بقتلی فیاسیوف خذینی
اگر میرے نانا کا دین اس وقت تک بر قرار نہیں رہ سکتاجب تک کہ میری رگ حیات قطع نہ ہوجائے تو اے خون آشام تلوارو! آؤجسم حاضر ہے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوی تماشالب بام ابھی
۵: شجاعت و استقامت :
جو شخص ظلم و جور، جبر و قہر کے پائوں تلے زندگی گذارنے پر قانع ہو اور وہ اس زندگی کو ایک قسم کی راحت جانتا ہو وہ ایک ذلیل نفس انسان ہے ایسے آدمی کو ضعف فکر اور ہمت سے عاری زندگی نے اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ استعمار اور دوسروں کی غلامی کے سایہ میں زندہ رہنے کو آرام و آسائش خیال کرے کیونکہ نہ تو وہ روح بزرگ رکھتا ہے تاکہ شجاعت و دلیری کا درس حاصل کرے پس انقلاب کربلا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بندگی و غلامی و استعمار کی قید و بند میں شکست خوردہ اور سسکتی ہوئی زندگی کے مقابلہ میں ہم موت کو اخیار کر لیں تاریخ کربلا کا یہ درس ہے ہم جانبازی و فداکاری کی راہ کو اختیار کریں۔
۶:ایثار :
اجتماعی ضرورت کے پیش نظر دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرنا ایثار کہلاتا ہے اس کا بہترین نمونہ سرکار امام حسین ؑنے دنیا والوں کو بتادیا ضرورت کے وقت دوست کیا دشمن کو بھی اپنی ذات پر مقدم کرو۔ یہ سبق حضرت نے اس وقت دیا جب عراق کی راہ میں فوج حر کو جو سد راہ کے لیے آئی تھی آپ نے اپنے ساتھ کا سب پانی پلا دیا۔ذاتی طور پر جان بچانے کے امکان ٹکھرائے جارہے تھے صرف حسین ؑکے حق و وفاداری ادا کرنے کے لیے جناب ابوالفضل العباس علیہ السلام اور انکے بھائیوں کے لیے دو امان نامے آئے مگر وفادر اور جانثار بھائی نے دونوں کو رد
کردیئے اپنے سامنے زندگی کی راہ صاف ہونے کے با وجود دوسروں کی خاطر موت اختیار کرنا ایثار و قربانی کی اعلیٰ مثال ہے۔
۷: قربانی :
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنیٔ ذبح عظیم آمد پسر
سرکار امام حسین ؑکی عظیم قربانی مسلم حیثیت رکھتی ہے اگر وہ اپنی شہادت کے مرتبہ کو سب سے پہلے پیش کرلیتے تو یہ کہنے کو ہوتا کہ مصائب و مشکلات سے گھبرا کر اپنی جان دے دی لیکن آپ نے آہستہ آہستہ قربانی کے مراحل طے کر کے یہ ثابت کردیا کہ آپ کا اقدام کسی وقتی جذبہ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ معاملہ فہمی اور فرض شناسی پر مبنی تھا۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتداء ہے اسماعیلؑ
((منور عباس ز یدی))
خدا وند عالم کی بیکراں اور عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت گریہ و عزاء اور آہ و فغاں ہے۔
رونا آنسوں بہانا ایک فطری امر ہے اور فطرت تابعٔ عقل ہوا کرتی ہے :
رونا زندگی کی علامت اور زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے جب کسی کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہی دیکھا جاتا ہے کہ بچہ رویا بھی یا نہیں۔ اگر خدانخواستہ کچھ دیر بچہ گریہ نہ کرے تو بچے کے والدین پریشان ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے بچے با دل نا خواستہ رلایا جاتا ہے۔ پس رونا انسان کی فطرت میں شامل ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں۔
دین اسلام نے خصوصاً گریہ و عزاء کو ایک خاص اہمیت کا حامل قراردیا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ خداوند عالم نے آہ و فغاں اور گریہ و زاری کو تواضع اور انکساری کی نشانی اور باطن کی پاکیزگی کی علامت قرار دیا ہے۔
گریہ و عزاء قرآن کی نظر میں :
قرآن مجید میں ایسی کئی آیتیں موجود ہیں کہ جو گریہ و فغاں کے نا صرف جائز ہونے بلکہ مستحب اور مستحسن ہونے پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ نمونہ کے طور پر ہم ان میں سے بعض آیات کو پیش کر رہے ہیں:
۱: لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم و کان اللہ سمیعاً علیماً
اس آیت مجیدہ میں ظالم و جابر کے خلاف آواز اٹھانا اللہ کی نظر میں مطلوب و محبوب ہے ۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں اور ناہی اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہے کہ یزید جیسے فاسق و فاجر بدخو اور بد کردار شخص نے امام حسین ؑسے ان کا خدا داد منصب چھینا تاکہ اپنی گندی پالیسیوں کو فروغ دے سکے، ظلم و جور کو عام کرسکے اور جھوٹے افسانوں کو حقیقت نمائی کا لباس پہنا کر حقیقت کے عنوان سے روشناس کرا سکے۔بس انہیں سب بدعتوں کو مٹانے اور رسول اسلام کی سنت کو زندہ کرنے کیلیئے آپ نے ظلم و جور کے خلاف آواز بلند کی جو کہ ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانا مطلوب و مقصود خدا ہے۔
۲: و اذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری أعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق۔
اس آیت میں گریہ و آہ و فغاں اور آنسوؤں کو مرد مومن اور خود خدا وند عالم کے عاشق و عارف کی نشانی اور علامت قرار دیا گیا ہے۔
۳: تولوا و اعینھم تفیض من الدمع حزناً الا یجدوا ماینفقون۔
اس آیت میں خداوند عالم مومنوں اور مجاہدوں کے دل کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ! کہ جب رسول خدا ﷺنے عدم توانائی مال کے سبب انہیں جنگ سے منع کیا تو پلٹنے والوں کی یہ حالت تھی کہ ان کی آنکھوں سے اشکوںکا سیلاب جاری تھا اور یہ کہہ رہے تھے آخر ہمارے پاس کوئی چیز کیوں نہیں کہ جسے ہم راہ خدا میں خرچ کرسکیں، یہ غم و غصہ کے سبب آنسوں ہیں جو صرف و صرف خدا وندعالم کی راہ سے محرمیت کے سبب آنکھوں سے نکل آئے ہیں اور یہ آنسوں خدا وند عالم کے نزدیک بڑے عزیز اور بڑی قدر و منزلت کے حامل ہیں۔
عزاداری رسول اسلام ﷺکی سیرت میں :
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سیرت رسول اکرم ﷺکو ہمارے لئے بہترین نمونۂ عمل قرار دیا ہے ،جیسے کہ ارشاد رب العزت ہے: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کیا سیرت رسولؐ میں عزاداری کا کوئی نمونہ نظر آتاہے؟
١۔ آپؐ کا حضرت حمزہ ؑاور احد کے شہداء پر گریہ کرنا
متعدد روایات میں ملتا ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کو حضرت حمزہؑ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے بلند آواز سے گریہ فرمایا یہاں تک کہ جب آپ نے حضرت حمزہ ؑکی بہن صفیہ کو اپنے بھائی حمزہ کے جنازے پر گریہ کرتے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ آپ کی آنکھوں سے بھی اشک جاری ہوگئے۔
ایک دوسری روایت میں ہیکہ حضرت رسول خدا ﷺنے شہدائے احد پر رونے والی خواتین کو ترغیب دلائی کہ وہ حضرت حمزہ ؑکے گھر جاکر گریہ و عزا کریں۔ اس واقعہ کو اکثر مورخین نے نقل کیا ہے۔
۲:حضرت جعفر ابن ابی طالؑب کی شہادت پر گریہ کرنا
|
دین اسلام نے خصوصاً گریہ و عزاء کو ایک خاص اہمیت کا حامل قراردیا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ خداوند عالم نے آہ و فغاں اور گریہ و زاری کو تواضع اور انکساری کی نشانی اور باطن کی پاکیزگی کی علامت قرار دیا ہے۔ |
۳:آپؐ کا اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر گریہ
انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم نے رسول خدا ﷺکو آپ کے فرزند حضرت ابراہیم ؑکی وفات پر گریہ کرتے ہوئے دیکھا نہ صرف گریہ بلکہ آپؐ ابراہیم کی میت سے مخاطب ہو کر فرمارہے تھے! اے ابراہیمؑ ! تمہاری جدائی پر بہت زیادہ محزون و غمگین ہوں۔
۴:آپ کا اپنی ماں کی قبر پر گریہ
اہل تسنن کی معتبر کتاب جیسے مسند احمد ابن حنبل، سنن نسائی اور بہت سی کتابوں میں آیا ہیکہ حضرت رسول خدا ﷺاپنے اصحاب کے ساتھ اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے گئے اور وہاں کافی دیر تک گریہ کرتے رہے۔
‘‘زار النبی قبر امہ قبلی بکی من حولہ’’ اور بہت سی رویات موجود ہیں جو رونے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہاں یہ ضرور ہے کہ اسلام نے رونے کو نہیں بلکہ نہ رونے کو شقاوت قلب اور قساوت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔جیسے کہ رسولﷺ خدا فرماتے ہیں:من علامات الشقاء جمود العین ، قسوة القلب(آنکھوں کا اشکوں سے محروم ہونا اور دل کا خوف خدا سے خالی ہونا شقی انسان کی علامت ہے)۔رونا ایک سعادت اور خوش بخت انسان کی علامت ہے کسی کو رونا اگر نہیں آتا تو سمجھو وہ پتھر ہے انسان نہیں کیونکہ رونا انسان ہونے کی علامت ہے، یہ پتھر ہے کہ جس کو ہزاروں سال بھی اگر عمیق دریا میں رکھا جائے اور پھر اس کے بعد اس کا سینہ چاک کیا جائے تو پھر بھی پتھر سے پانی کا ایک قطرہ نہیں نکلتا۔
اگر آج ہم کسی مظلوم پر روتے ہیں تو ہم دنیا کو بتارہے ہیں کہ دیکھو ہم انسان ہیں پتھر نہیں ہیں۔ اور ہمارے انسان ہونے کی علامت یہ ہے کہ ابھی ہمارے اشکوں کا تسلسل ٹوٹا نہیں ابھی ہماری آنکھوں کا سیلاب تھما نہیں، ابھی ہمارے دل کی دھڑکنیں روکی نہیں، ابھی ہمارے ہاتھ مظلوموںکی مدد سے باز نہیں آئے۔ابھی ہمارے قدم ظالموں و جابروں کے خوف سے لرزے اور رکے نہیں: ہم نے ہر دور اور زمان میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کی ہے۔ ہم اگر آج تک ہر موڑ پر ظلم کو شکست فاش دیتے چلے آئے ہیں تو یہ صرف یہی امام حسینؑ کی عزاداری کا صدقہ ہے۔
کاش یہ دنیا امام حسین ؑپر گریہ و زاری کی قدر و منزلت سمجھ سکتی اور اس حقیقت کو درک کرسکتی کہ امام حسین ؑپر اشک بہانے کے کیا فوائد اور کتنی عظیم سعادت ہے یہ وہ سرمایہ ہے جو کبھی گھٹتا اور فناء نہیں ہوتا۔یہ کوہ بصیرت سے نکلتا ہوا آنسوؤں کا سیلاب صرف آنسوں نہیں بلکہ وہ درّ نایاب ہے کہ جس کی قیمت روز محشر بھی کوئی ادا نہیں کر سکے گا :۔ بقول شاعر
ایک سناٹا سا ہوگا حشر کے میدان میں
فاطمہ نے گر کہا اشکوں کی قیمت چاہئے
آخر اس قیمتی در نایاب کو کیسے بھول جائیں۔ دنیا ہم سے کہتی ہے کب تک حسین ؑپر اشک بہاتے رہوگے، کب تک کربلا کو یاد رکھو گے۔ دنیا کو چاہئیے کہ ہمیں حسینؑ پر رونے دے ورنہ اگر ہم خاموش ہوئے تو پھر دنیا کو رونا پڑے گا کیونکہ حسین ؑنام ہے مظلوموں کے احتجاج کا جو ہر دور میں ظلم کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت میں ہوتا رہا ہے اور کیسے بھول جائیں ہم کربلا کو جو کہ ہمارے لہو کی حرارت ہے۔ بقول شاعر
میں کربلا کو فراموش کر تو دوں لیکن
میرے لہو میں حرارت کہاں سے آئے گی
آخر دنیا والے انصاف کریں کہ ہم کیسے حسین ؑکو فراموش کرسکتے ہیں جبکہ حسینؑ کی شہادت ہی ہمارے دلوں کی حرارت اور گرمی ہے جیسا کہ رسول اللہ کا ارشاد بھی ہے۔(( ان لقتل الحسین حرارة فی قلوب المومنین لا تبرد ابداً ))
بے شک حسینؑ کی شہادت نے مومنوں کے دلوں میں ایک ایسی حرارت پیدا کردی ہے جو تا قیامت ٹھنڈی نہیں ہوگی۔
عزاداریٔ امام حسینؑ معصومین کی نظر میں
عزاداریٔ حسین ؑ،رسول خدا ﷺکی نظر میں:
علامہ سید محسن امین عاملی اپنی کتاب (اقناع الائم علی اقامة الماتم)کے صفحہ نمبر ٣٠ میں کہتے ہیں کہ شیخ ابوالحسن علی بن محمد المادودی شافعی اپنی کتاب (اعلام النبوة) کے صفحہ نمبر ٨٣ چاپ مصر میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
کہ رسول خدا ﷺسے روایت ہے عروة حضرت عائشہ سے ناقل ہے کہ حسین ؑبن علی ؑرسول خدا ﷺکی خدمت میں دوران وحی وارد ہوئے اور پیغمبر اسلام ﷺکی پشت مبارک پر بیٹھ گئے اور کھیل میں مشغول ہوگئے اتنے میں جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا! اے محمد ﷺ آپ کی امت آپ کے بعد فتنہ برپا کرے گی اور آپ کے اس فرزند کو آپ کے بعد قتل کرے گی۔
|
امام محمد باقر ؑفرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی امام سجادؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مومن امام حسینؑ کی شہادت اور ان کی مصیبت پر آنسوں بہائے یہاں تک کہ وہ آنسوں اس کے رخسار پر جاری ہوجائیں تو خدا وند عالم اسکو بہشت کے گھر اورقصر میں جگہ دیگا۔ |
اما م حسین ؑ حضرت علیؑ کی نظر میں:
روایت میں ہےکہ مولائے کائناتؑ جب جنگ صفین کے لئے جارہے تھے راہ میں سرزمین
کربلا سے گذرہوا آپ نے ابن عباس کی طرف دیکھ کر فرمایا اے ابن عباس ؑجانتے ہو یہ کونسی جگہ ہے ابن عباس نے کہا مولا نہیں معلوم آپ ہی فرمائیں یہ کونسی سر زمین ہے تو اس وقت حضرت علیؑ نے فرمایا کہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں جوانان آل محمد ﷺ کی سواریاں اترے گی ان کا قیام ہوگا اور اسی مقام پر ان کا خون بہایا جائے گا اور یہاں پر شہید ہونے والوں پر آسمان و زمین گریہ کریں گے۔
گریہ حضرت فاطمہ زہراؑء :
مختلف روایات میں ہے کہ جناب فاطمہ زہراءؑ نے عالم خواب میں دیکھا کہ ایک عورت ہے جو ایک قبر پر گریہ کر رہی ہے اوروہ قبر امام حسین ؑکی ہے جس سے آپ کو بہت اذیت ہوئی ۔
عزاداری امام سجادؑ کی نظر میں :
امام محمد باقر ؑفرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی امام سجادؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مومن امام حسینؑ کی شہادت اور ان کی مصیبت پر آنسوں بہائے یہاں تک کہ وہ آنسوں اس کے رخسار پر جاری ہوجائیں تو خدا وند عالم اسکو بہشت کے گھر اورقصر میں جگہ دیگا۔
گریہ امام صادقؑ کی نظر میں :
((عن ابی عبداللہ : ان البکاء و الجزع مکروہ للعبد فی کل ما جزع ما خلا البکاء و الجزع علی الحسین بن علی فانہ فیہ ماجور))۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ کسی بھی شیٔ پر گریہ وزاری کرنا انسان کیلئے مکروہ اور نا پسند ہے سوائے امام حسین ؑکے مصائب کے کیونکہ آنحضرتؑ پر گریہ و زاری ثواب رکھتا ہے۔
یا ایک دوسری روایت میں فضیل امام صادق ؑسے نقل کرتے ہیں (( عن فضیل بن یسار عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال :من ذکرنا عندہ ففاضت عیناہ ولو مثل جناح بعوضةغفر لہ ذنوبہ ولو کانت مثل ربد البحر))
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ جس کسی کے پاس ہمارا ذکر کیا جائے اور اسکی آنکھوں سے اشک جاری ہوجائیں اگر چہ مچھر یا مکھی کے پر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو بخش دیگا اگر چہ اس کے گناہ کفِ دریا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
عزاداری امام رضا ؑکی نظر میں :
ابراہیم ابن ابی محمود سے روایت ہے کہ امام رضا فرماتے ہیں کہ ماہ محرم وہ مہینہ ہے کہ (رسول اسلام ﷺکی بعثت سے پہلے) دور جاہلیت میں لوگ اس مہینہ میں جنگ و جدال کو حرام جانتے تھے لیکن ہم آل پیغمبر کا خون بہانا اس مہینہ میں حلال سمجھا گیا اور ہمارے فرزند اور عورتوں کو اسیر کیاگیا ہماری عزت مجروح ہوئی، ہمارے خیموں میں آگ لگائی گئی، ہمارے اسباب لوٹے گئے اور حرمت رسول خدا ﷺ کا ذرا بھی خیال نہیں کیا گیا۔در حقیقت ہمارے جد امام حسینؑ کی مصیبت اور ان کی شہادت نے ہماری آنکھوںکو مجروح کردیا اور ہماری آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری کردیا اور ہمارے عزیزوںکو سر زمین کربلا میں گرفتار کیاگیا اور روز قیامت تک ہمارے لیئے حزن و ملال کو مہیاکردیا گیا پس رونے والوں کو چاہیئے کہ حسینؑ پر گریہ کریں کیونکہ آنحضرت پر رونا اور گریہ کرنا بڑے گناہوں کوبھی محو کردیتاہے۔
ایک روایت میں امام رضاؑ فرماتے ہیں :
جو بھی عاشور کے دن اپنے کاروبار کو چھوڑ دے اور اپنی خواہش و ضرورت کے پیچھے نہ جائے تو خداوند عالم اس کی دنیا اور آخرت کی تمام حاجات پوری کردے گا اور جو بھی شخص عاشور کے دن مصیبت ،حزن و ملال اور گریہ و عزاء میں ہوگا، خدا وند عالم اس کو قیامت کے دن خوش اور شاد رکھے گا یہاں تک کہ وہ بہشت میں ہم کو دیکھے گا اور جو بھی روز عاشور کو برکت کا دن تصور کرے اور اپنے اہل خانہ کے لئے کوئی چیز لے کر جائے وہ اس میں برکت نہیں دیکھے گااور روز قیامت اس کا شمار یزید عبید اللہ ابن زیاد اور عمر بن سعد لعنة اللہ علیھم کے ساتھ ہوگا اور یہ جہنم کے پائین ترین حصے میں رہیں گے ۔
ایک دوسری روایت میں امام رضا ؑفرماتے ہیں:
((یابن شبیب ان کنت باکیاً لشیء فانک للحسین علیہ السلام فانہ ذبح کما یذبح الکنش، و قتل معہ من اھل بیتہ ثمانیہ عشر رجلاً مالھم فی الارض شبیہون، ولقد بکت السماوات السبع والارضون لقتلہ .........الی آخر))
|
|
اس کے بعد امام رضاؑ فرماتے ہیں: اے فرزندشبیب میں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ جس وقت میرے جد حسین ؑشہید ہوگئے تو آسمان سے خون بر سا اور زمین سرخ ہوگئی۔
((یابن شبیب : ان بکیت علی الحسین حتی تصیر دموعک علی خدیک غفر اللہ لک کل ذنب اذنبتہ صغراً او کبیراً قلیلاً او کثیراً))
اے فرزندشبیب : اگر حسینؑ پر روتے روتے اشک تیرے رخسار پر جاری ہو جائیں تو خداوند عالم تجھ کو بخش دے گا اور جو بھی تونے گناہ انجام دیئے ہیں وہ معاف کردے گاچاہے وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کم ہوں یا زیادہ اور فرزند شبیب اگر تو چاہتا ہیکہ تو خداوندعالم سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ تیرے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہ ہو تو تجھے چاہیئے کہ تو حسین ؑکے روضے کی زیارت کر۔
عجیب مقام ہے حسینؑ کا اور عجیب عظمت ہے آپ کے روضے کی۔ آپ پر گریہ و زاری نہ صرف ہمارے ایک دو امام نے کی بلکہ ہمارے تمام آئمہؑ آپ کی شہادت اور مظلومیت پر اشک بہاتے رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارے بارہویں امامؑ ، امام زمانؑہ فرماتے ہیں کہ اگر میری آنکھوں کے آنسوں خشک ہوگئے تو میں آپ پر خون کے آنسوں بہاؤں گا۔
حق بھی یہی بنتا ہے کہ آپ کے جدپر خون کے آنسوں بہائے جائیں کیونکہ وہ کونسا ظلم ہے جو حسینؑ اور آپ کے اصحاب پر نہیں ڈھایا گیا۔
فرات کی خنک و تر ہوا کہیں خیام حسینی ؑمیں نہ چلی جائے لہذا فرات سے اہلبیت عصمت و طہارت ؑکے خیمے ہٹادئے گئے۔ شدت تشنگی ان کے ارادوں کو ضعیف و ناتواں کردے لہذا صفین کی تاریخ دوہرائی گیٔ ساقی کوثر کے فرزند اور ننھے ننھے معصوم بچوں پر فرات کا پانی بند کردیاگیا۔ بھوک سے ہلاکت کا خوف انہیں حق بولنے سے باز رکھ سکے لہذا بھوکا رکھا گیا۔ باطل کی کثرت، حق کی قلت کو دہلا سکے لہذا فوج پر فوج جمع کی گئی لیکن شاید یزید اور یزیدی افواج یہ بھول گئی تھی کہ
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہو ا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اور ہوا بھی یہی : عجیب ڈھنگ سے خدا نے اس شمع امامت کی حفاظت کی کہ بھوکے حسین ؑرہے لیکن خستہ یزیدیت ہوگئی پیاسا حسینؑ کو رکھا گیا، لیکن پیاس کا غلبہ یزیدیت پر طاری رہا سر حسینؑ کا کٹالیکن ہاری یزیدیت سرمایا حسین ؑکا لٹا لیکن بھکاری یزید ہوگیا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گھوڑے حسین ؑکے جسم نازنین پر دوڑائے گئے لیکن پامال یزید ہوگیا ۔ بقول شاعر
گھوڑے تو دوڑے لاشۂ شبیر ؑپر مگر
تاریخ نے یزید کو پامال کردیا
تاریخ گواہ ہے جنہوں نے اسلحوں کے ذریعہ جنگ جیتی وہ برائے نام چند دنوں کے لئے فاتح کہلائے ہیں لیکن جنہوں نے کردار سے معرکہ کو سر کیا وہ تا قیامت فاتح اعظم کے نام سے یاد کئے جائیں گے کیونکہ امام حسین ؑنے کردار کی تلوار سے ظلم کو صفحۂ ہستی سے مٹایا ہے لہذا حسینؑ کل بھی فاتح اعظم کے نام سے یاد کئے جاتے تھے اور آج بھی یاد کئے جاتے ہیں اور آئندہ بھی یاد کئے جاتے رہیں گے حسین ؑکی مظلومیت پر کل بھی اشک بہتے تھے آج بھی بہتے ہیں اور تاقیامت بہتے رہیں گے۔
((میثم عباس سرسوی))
اسلام کی تعلیمات کو تین حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے ان سب میں سب سے اول عقیدہ یعنی اصول دین دوسرا عملیات یعنی فروع دین تیسرا اخلاقیات اسلامی تعلیمات کے یہ تینوں درس بیک وقت کربلا میں ملتے ہیں۔
امام حسین ؑنے مدینہ کی روانگی سے قبل وصیت کے عنوان سے ایک خط لکھا جس میں اپنے بھائی محمد بن حنفیہؑ کو کچھ وصیت کی اور اپنے مقصد کی طرف متوجہ کیا :
(( بسم اللہ الرحمن الرحیم ھذا ما اوصی بہ الحسین بن علی بن ابی طالب الی اخیہ محمد المعروف ابن الحنفیہ ................ انی لم اخرج اشراً ولا بطراً و لا مفسداً ولا ظالماً انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان آمربالمعروف و انھی عن المنکر و اسیربسیرة جدی و ابی علی ابن ابیطالب فمن قبلنی بقبول الحق فاللہ اولی بالحق و من رد علی ھذا اصبر حتی یقضی اللہ بینی و بین القوم بالحق وھو خیر الحاکمین ))
بیشک میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں محمدﷺاس کے بندے اور رسولﷺ ہیں اور خداکی طرف سے حق لائے ہیں جنت و جہنم حق ہیں قیامت ضرور آئے گی خدائے متعال مردوں کو زندہ کریگا ۔
امابعد میں فتنہ و فساد برپا کرنے یااپنی شہرت کیلئے نہیں نکل رہا ہوں بلکہ میں تو اپنے جد رسول کی امت کی اصلاح کیلئے نکل رہاہوں میں نیکیوں کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے اور اپنے جد اور اپنے بابا علی مرتضیؑ کی سیرت پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اگر حق کی دعوت کو کوئی قبول کریگا تو خدا حق قبول کرنے کیلئے زیادہ سزاوار ہے اور کسی نے اسے قبول نہ کیا تو میں صبر کرونگا یہاں تک کہ خدا میرے اور اس جماعت کے درمیان فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔
امام حسین ؑکے اس وصیت نامہ سے دو باتیں ثابت ہوتیں ہیں۔
۱:اصلاح امت اور امر بالمعروف ونھی از منکر
٢۔ اسوۂ حسنہ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو تین حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے اصول دین فروع دین اخلاق
امام حسینؑ کو اصول دین توحید کی بھی اصلاح کرنی تھی لوگ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ بنی امیہ کی عبادت کر رہے تھے اور لائق تعظیم بھی سمجھ رہے تھے نبوت کے بارے میں بنی امیہ کے خاندان سے آوازیں آرہی تھیں نہ کوئی وحی آئی نہ قرآن نہ کوئی رسول آیا بلکہ یہ تو بنی ہاشم کا ڈھونگ تھا یہی دربار تھا جہاں سے یہ بھی اعلان ہورہا تھا اور لوگ سن بھی رہے تھے کہ قیامت صرف وصرف بنی ہاشم کا ڈھونگ ہے حکومت کے لوگ عدل کے نام پر لوگوں پر ظلم کررہے تھے اور لوگ امام عادل کے مقابلے میں خروج کرچکے تھے اور طرح طرح کی تہمتیں لگا رہے تھے کہ علی ؑنماز نہیں پڑھتے تھے۔
ابو مخنف نے عقبہ بن ابی العزار سے نقل کیا ہے کہ امام حسین ؑنے بیضہ نامی جگہ پر ایک خطبہ اپنے اصحاب اور اصحاب حر کے دربیان دیا سب سے پہلے حمد و ثناء اور درود و سلام کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ:
((یا ایھا الناس! ان رسول ۖ اللہ قال! من رای سلطانا جائرا مستحلالحرم اللہ ثانیا لعھد اللہ مخالفالسنت رسولۖ اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم و العدوان فلم یغیر بفعل ولا قول کان حقا علی اللہ ان یدخلہامدخلہ الا و ان ھؤلاء القوم قد لزموا طاعة الشیطان وترکوا طاعة الرحمن و اظہروا الفساد وعطلوا الحدود واستاثروا بالفیء و احلوا حرام اللہ و حرموا حلالہ و انا احق من غیر و قد اتتنی کتبکم وقدمت علی رسلکم بیعتکم انکم لا تسلمونی ولا تخذلونی فان تممتم علی بیعتکم تصیبوا رشدکم فانا الحسین بن علی وابن فاطمہ ۖ بنت رسول ۖ اللہ نفسی مع انفسکم و اھلی مع اھلکم فلکم فی اسوة و ان لم تفعلوا و نقضتم عھدکم و خلفتم بیعتی من اعناقکم فلعمری ما ھی لکم بنکر لقد فعلتموھا بابی و اخی وابن عمی مسلم والمغرور من اغتر بکم فحظکم اخطاتم و نعیبکم ضیعتم و من نکث فانما ینکث علی نفسہ و سیغنی اللہ عنکم والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ))۔
امام حسینؑ اپنے خطبہ کا آغاز کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے لوگو! رسول خدا ﷺنے ارشاد فرمایا ہیکہ جو بادشاہ ستمگر محرمات خدا کو حلال کرے اور عہدو پیمان الھی کو شکستہ کرے سنت رسولﷺ کی مخالفت کرے اور بندگان خدا پر ظلم جور کرے جو بادشاہ کو ان حالتوں پر دیکھے اور اپنے عمل کے ذریعہ یا گفتار کے ذریعہ مخالفت نہ کرے تو خدا کا حق ہیکہ اس شخص کو بادشاہ کے ساتھ جہنم میں ڈالے،اس قوم (تم لوگوں ) نے شیطان کی اطاعت کو لازم سمجھ لیا ہے اور خدا کی اطاعت کو ترک کردیا ہے۔ تم لوگوں نے فساد اور خرابکاری کو ظاہر کیا ہے اور فئی مسلمین کو اپنے واسطہ مخصوص کرلیاہے حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کردیا ہے، میں تم لوگوں میں اظہار مخالفت میں زیادہ مناسبتر ہوں۔
تمہارے خطوط اور تمہارے قاصدوں نے مجھے آگاہ کیا ہیکہ آپ ہمارے ساتھ رہیں اور ہمیں تنہا نہ چھوڑیئے۔ اگر تم لوگ اپنی بیعت پر وفادار رہوگے تو سعاتمند رہوگے میں حسین ؑبن علی ؑفرزند فاطمہ ؑ بنت محمد ﷺتمہارے ساتھ ہوں، میں اور میرا خاندان تمہارے خاندان کے ساتھ ہے تم لوگ میری پیروی کرو اگر پیروی نہیں کروگے اور اپنے عہد کو توڑو گے اور ترک بیعت کروگے تو اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوںکہ جو کام تم نے میرے بابا اور میرے بھائی اور میرے چچازاد بھائی کے ساتھ کیا تھا دور نہیں ہے کہ تم میرے ساتھ بھی وہی کرو۔
مغرور وہ ہے جو تمہاری باتوں پر دھوکا کھاجائے تم لوگ راہ سود مند سے ہٹ گئے ہو اپنے فائدہ کو اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہو جس نے بھی انکار کیا اس نے اپنے اوپر ظلم کیا خدا وند عالم مجھ کو تم سے بے نیاز کرے گا۔
شرائط تقدس قیام :
قیام کے تقدس کے لئے تین شرطوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
۱۔فردی نہ ہو : بلکہ کلی، نوعی، انسانی ہو۔ کبھی کبھی قیام کرنے والا اپنی ذات کیلیئے قیام کرتا ہے اور کبھی کبھی اصول، فروع و اخلاق کیلیئے قیام کرتا ہے۔ قیام کے کامیابی اور کامرانی کیلیئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیئے نہ ہو بلکہ اجتماع کے لئے ہو۔
٢۔ وہ قیام ایک درک قوی اور ایک بصیرت سے نافذ تؤام ہو :یعنی جس وقت تمام لوگ غفلت میں ہوں اور بے خبر جاہل ہوں ایک آدمی اٹھے جو ان لوگوں کے درد کو بادرک قوی صد در صد بہتر سمجھتاہو۔اس وقت دوسرے لوگ کچھ نہ سمجھ رہے ہوں وہ اٹھے ان لوگوں کو بیدار کرے۔
۳:تک و فرد ہو : یعنی ایسی روشنی ہو کہ اندھیرے میں کاملاً چمکے خاموشیوں میں آواز، سکوت مطلق میں حرکت ہو، تمام دوسرے لوگ بولنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں تمام دیگر لوگوں میں تاریکی مطلق ،سکوت مطلق ہو ایک مرتبہ ایک شخص اٹھے اور تمام سکوتوں کو شکستہ کرے تمام تاریکیوں کو توڑدے مثل ستارہ درخشا ں کے چمکے۔(حماسہ حسینی مرحوم شہید مطہریؒ)
جب امام حسین ؑنے قیام کیاتو وہ قیام فردی نہ تھا بلکہ پوری کائنات کی بقاء کیلئے تھا۔ قارئین امام حسینؑ کا مقصد یزید کو مٹانا نہیں تھا بلکہ یزیدیت کو مٹانا تھا۔ یزید ایک فاسد کردار کا نام ہے یزید ایک بدکار و حرام زادہ شخص کا نام ہے۔ یہی وجہ ہیکہ اصول بھی بچ گئے اور فروع بھی بچ گئے اور اخلاق بھی بچ گئے۔ ابھی زیادہ زمانہ نہیں گذرا جمہوری اسلامی ایران میں آیت اللہ روح اللہ امام خمینؒی نے قیام برپا کیا ان کا مقصد بھی ذاتی یا فردی نہ تھا بلکہ اجتماع کے لیئے تھا۔ قیام میں کامیاب و کامران بھی ہوگئے غربی ممالک میں لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں خمینی ؒوالا اسلام بتاؤ امام خمینؒی کا اپنا ذاتی اسلام نہ تھا بلکہ وہی دین ،دین محمدیؐ تھا۔ امام خمینؒی قیام ایران کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی نیا کام نہیں کیا ہے بلکہ امام حسین ؑکی سیرت پر عمل کیا جو امام حسین ؑسے درس حاصل کیا تھا۔
محترم گاندہی ہندوستان کی آزادی کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں نے امام حسین ؑکی سیرت کا درس حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں قیام شخصی نہ ہو وہاں ظفریابی حاصل ہوتی ہے۔
دوسری شرط جیسے کہ ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ درک قوی سے یا بصیرت سے دیکھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ سے لوگوں کا ایک وفد عازم شام ہوا، اس ہیئت کا رئیس عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو بنایا یہ شام پہونچے تو وہاں کے حالات کو درک کیا جب خلیفہ سے روبرو ہوئے تو دیکھا کہ وہ علی الاعلان شراب پی رہا ہے، کتوں سے کھیل رہا ہے، قمار بازی کررہا ہے، چیتے کے ساتھ بازی کررہا ہے اور بندروں سے کھیل رہا ہے جب ان لوگوں نے یہ حالات دیکھے تو کہا خدا نہ کرے ہم پر آسمان سے پتھروں کے عذاب نازل ہوجائے پوچھا کیوں ہم نے دیکھا شراب پی رہا ہے حتی اپنے محارم کے ساتھ زنا کررہا ہے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائلکہ نے کہا کہ میرے آٹھ لڑکے ہیں میں اپنے لڑکوں کے ساتھ قیام کرنا چاہتا ہوں اور تم لوگ میرا ساتھ دو۔ عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے یزیدکے خلاف قیام (حرة) کیا سب سے پہلے اپنے آٹھوں بچوں کو میدان میں بھیجا وہ سب شہید ہوئے پھر بعد میں خود میدان جنگ میں شہید ہوئے ، قیام حرہ امام حسین ؑکے مدینہ سے خارج ہونے کے تین سال بعد واقع ہوا۔ امام حسین ؑنے ارشاد فرمایا :
((علی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامہ براع مثل یزید)) امام حسین ؑارشاد فرماتے ہیں کہ میں جانتا ہوں اگر یزید خلافت اسلامی کو اپنے ہاتھوں میں لے لے تو اس اسلام پر سلام آ خر، بعد کربلا ہزارہا لوگ جاگے کہ امام حسینؑ کیوں قتل کئے گئے۔
تیسری شرط یہ ہیکہ اندھیرے کو کاملاً چمکادے امام حسینؑ وہ نور ہیں جب سب غافل و جاہل و بے خبر تھے تو آپ نے پوری کائنات کو اپنے قیام کے ذریعہ سے چمکا دیا ۔
وہ دور آچکا تھا تاریکی ٔ مطلق تھی، سکوت مطلق تھا، سکون مطلق تھا لیکن امام حسین ؑنے اپنے قیام کے ذریعہ تمام خاموشیوں کو شکستہ اور نا امید کردیا۔
مرزا اظہر عباس سانکھنوی
معاون ایڈیٹر ماہنامہ ناصر دہلی
۱۰محرم الحرام ٦١ء کو سر زمین عراق کے کربلا نامی صحرا میں رونما ہونےوالے واقعہ کے اثرات و تاثرات اور اس کے آثار و یادگار دنیا کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کسی نہ کسی شکل و صورت میں پائے جاتے ہیں انسانیت سے رشتہ رکھنے والے افراد وہ چاہے کسی بھی رنگ و نسل اور قوم ملت و مسلک کے ہوں ان کے یہاں اس واقعہ کی یاد موجود ہے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہر سال اس کی یاد تازہ رکھنے کا بڑا اہتمام مختلف انداز سے کیا جاتا ہے ہمارے ملک ہندوستان میں مختلف تہذیب و تمدن اور مختلف رنگ و نسل اور مختلف مذہب و مسلک کے ماننے والے رہتے ہیں لہذا ہندوستان بھر میں اس واقعہ کی یاد بھی مختلف انداز میں منائی جاتی ہے شہر دہلی ہندوستان کا دارلحکومت ہے یہاں مختلف مذہب و ملت کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی اس واقعہ کی یاد مختلف مذہب و ملت کے لوگ اپنے اپنے انداز سے مناتے ہیں محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی دہلی میں کربلا کے شہیدوں کے ماتم وجلوس کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ ربیع الاول کی آٹھ تاریخ تک جاری وساری رہتا ہے دہلی کے مختلف علاقوں میں روزانہ مجلس حسین ؑجلوس وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے ہم اس مضمون میں دہلی میں شیعہ حضرات جو عزاداری حسین ؑکرتے ہیں اس کا ایک خاکہ پیش کررہے ہیں۔
درگاہ پنجہ شریف پرانی دہلی کے کشمیری گیٹ میں واقع ہے جو پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ہے درگاہ پنجہ شریف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے یہ درگاہ مرجع خلائق ہے یہاں پر دور دور سے لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں کسی زمانہ میں پنجہ شریف اہل تشیع کا قبرستان تھا مگر اب یہ زیارت گاہ ہے یہاں پر کئی معصومینؑ کے روضۂ اقدس کی شبیہ ہے اور فرقہ امامیہ کے کئی جید علماء کے قبریں بھی یہاں موجود ہیں جن میں میر محمد کامل المعروف بہ ''شہید رابع '' مفسر قرآن مولانا سید مقبول احمد دہلوی خطیب اعظم مولانا سید محمد دہلوی کے والد مولانا آفتاب حسین صاحب دفن ہیں درگاہ پنجہ شریف میں محرم کا چاند ہوتے ہی مجالس کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ دس محرم الحرام شام غریباں تک جاری رہتا ہے روزانہ مغرب کے بعد مجلس ہوتی ہے ہزاروں کی تعداد میں مومنین شریک ہوتے ہیں اس کے علاوہ چہلم امام حسین ؑیعنی ٢٠ صفر المفظر کو ایک جلوس شیعہ جامع مسجد کشمری گیٹ سے برآمد ہوکر درگاہ پنجہ شریف میں اختتام پزیر ہوتا ہے ایام عزا کی آخری تاریخ یعنی آٹھ ربیع الاول کو مجلس عزا اور شبیہ تابوت امام حسن عسکری ؑبر آمد ہوتا ہے اس کے علاوہ یہاں ایام عزا میں مجالس و جلوس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
درگاہ شاہ مرداں :
درگاہ شاہ مرداں جور باغ میں ہے جو کہ صفدر جنگ میں واقع ہے۔ درگاہ شاہ مرداں دہلی کی کربلا ہے ایک بڑے رقبہ پر مشتمل درگاہ ہے اور یہ مرجع خلائق ہے یہاں پر اہل سنت اور اہل تشیع اپنے اپنے تعزیہ لے جاتے ہیں ایام عزا میں یہاں پر مجالس کا ایک خاص اہتمام ہوتا ہے جن میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی فرش عزا بچھ جاتا ہے اور محرم کی چاند رات سے لیکر دس محرم تک روزانہ مجلس کا سلسلہ جاری رہتا ہے چہلم کے موقع پر ١١ صفر سے ٢٠ صفر تک مجالس کا اہتمام کیاجاتا ہے دہلی کے دو تاریخی اور بڑے جلوس یعنی ٢٠ صفر المظفر اور ٧ ربیع الاول کے جلوس کہ جو سفید تعزیہ اور کالے تعزیہ کے نام سے مشہور ہیں جو دہلی کے بڑے اہم راستوں سے ہوتے ہوئے درگاہ شاہ مرداں پہنچ کر اختتام پزیر ہوتے ہیں اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں مومنین مجلس و ماتم میں شریک ہوتے ہیں اور دہلی شہر کی تمام ہی انجمنیں سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتی ہیں ان جلوس میں دہلی کے قرب و جوار میں بسنے والے مومنین شریک ہوتے ہیں۔
شیعہ جامع مسجد :
شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ میں واقع ہے اور یہ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے سامنے ہے یہ اہل تشیع کی سب سے قدیمی مسجد ہے ایام عزا میں یکم محرم سے ١٠ محرم تک روزانہ مجلس کا اہتمام کیا جاتاہے اور عاشورہ کے روز جلوس برآمد کیا جاتا ہے جو درگاہ پنجہ شریف میں ختم ہوتا ہے جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں اور سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتے ہیں اس کے علاوہ بیس صفر کو اور ٢٨ صفر کو یہاں سے جلوس برآمد ہوتے ہیں جو درگاہ پنجہ شریف میں ختم ہوتے ہیں۔
امامیہ ہال :
امامیہ ہال پنچکوئیاں روڈ نئی دہلی میں واقع ہے یہاں پر ایام عزا میں یکم محرم سے ٩ محرم تک مجلس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس کے علاوہ ایک عشرۂ مجالس جو ١ صفر سے ١٠صفر تک ہوتا ہے۔
چاندنی محل :
چاندنی محل تھانہ کے برابر میں ایک مکان ہے جہاں پر محرم کے پہلے عشرہ میں مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے یہ عشرہ دہلی کا قدیم ترین عشرہ ہے اس کو اہل سنت اور اہل تشیع مل کے کرتے ہیں مگر انتظام اور اہتمام شیعہ حضرات ہی کرتے ہیں۔
عزاخانہ محبت علیؑ :
یہ جامع مسجد کے علاقہ پہاڑی بہوجلہ پر واقع ہے یہ بڑا ہی تاریخی عزاخانہ ہے یہاں پر عشرۂ چہلم اور ایام عزا کا آخری عشرہ یعنی یکم ریع الاول سے سات ربیع الاول تک مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے علاوہ دہلی کے دو قدیمی اور بڑے جلوس یعنی سفید تعزیہ اور کالا تعزیہ (جو کہ ٢٠ صفر اور سات ربیع الاول کو نکلتے ہیں) اسی عزاخانہ سے برآمد ہوتے ہیں جو جامع مسجد اجمیری گیٹ سنسد بھون انڈیا گیٹ کے راستے ہوتے ہوئے درگاہ شاہ مرداں میں اختتام پزیر ہوتے ہیں۔
مسجد امام علی نقیؑ :
مسجد امام علی نقیؑ، جعفرآباد سلیم پورمیں واقع ہے یہ علاقہ جمنہ پار کا علاقہ کہلاتا ہے یہاں پر محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی عزاداری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے محرم کی چاند رات سے لیکر سات ریع الاول تک مجالس کا مسلسل سلسلسہ جاری رہتا ہے یہاں پر مختلف پروگرام عشرۂ مجالس، خمسہ مجالس متعدد افراد کے طرف سے منعقد کیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ جلوس و شب بیداری کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
حیدری ہال :
حیدری ہال برہم پوری گلی نمبر ٨ اسلم پور میں واقع ہے یہ کوئی بہت قدیم عزاخانہ نہیں ہے مگر اپنے مخصوص پروگراموںکی وجہ سے شہرت رکھتا ہے حیدری ہال انجمن حیدری (رجسٹرڈ) سانکھنی دہلی برانچ کے زیر اہتمام ہے یہاں بھی محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی عزاداریٔ امام حسین ؑکا اہتمام کیا جاتا ہے محرم کی چاند رات سے شام غریباں تک روزانہ مجلس و جلوس کا انعقاد ہوتا ہے اس کے بعد ایک عشرۂ مجالس چودہ محرم الحرام سے منعقد ہوتاہے جس کااہتمام انجمن حیدری کے نوجوان اطفال حیدر کے بیز(base) سے کرتے ہیں اس کے بعد ٢١صفر سے ٢٥ صفر تک خمسہ مجالس ہوتا ہے اس کے علاوہ متعدد جلوس ومجالس کا اہتمام کیاجاتا ہے۔
مسجد زہراء ؑ:
گوتم پوری سلیم پور میں واقع ہے یہ مسجد جمنا پار کی سب سے پہلی مسجد ہے دوسرے مراکز کی طرح یہاں بھی عزاداریٔ امام حسین ؑکا اہتمام کیا جاتا ہے محرم کی چاند رات سے دس محرم تک روزانہ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے بعد مختلف پروگرام مختلف افراد کی طرف سے منعقد کئے جاتے ہیں اور آخری ایام عزا میں ایک عشرۂ مجالس کا اہتمام کیاجاتا ہے جو سات ربیع الاول تک جاری رہتا ہے جس کا اہتمام مرزا ریاض علی سانکھنوی کرتے ہیں۔
مدرسۂ اہل بیتؑ :
مدرسۂ اہل بیتؑ، پرانہ مصطفی آباد گلی ٨٧ میں واقع ہے یہاں پر مومینین کی خاصی تعداد ہے یہاں پر عزا کا خاص اہتمام کیاجاتا ہے محرم کی چاند رات سے لیکر ایام عزا کے آخری دنوں تک متعدد جلوس عزا، عشرۂ مجالس و خمسۂ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے بڑی تعداد میں مومینین شریک ہوتے ہیں۔
بڑا امام باڑہ :
بڑا امام باڑہ رشید مارکٹ خوریجی میں واقع ہے یہاں پر محرم کی چاند رات سے دس محرم تک روزانہ مجلسیں ہوتی ہیں اس کا ایک عشرۂ مجالس ٢١ صفر سے ٢٩ صفر تک منعقد ہوتا ہے اس کے بعد جلوس عزاکا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ایام عزا میں متعدد پروگرام ہوتے ہیں۔
مسجد باب العلم :
مسجد باب العلم یہ اوکھلا وہار میں واقع ہے یہاں چاند رات سے دس محرم تک عزا کا سلسلسہ رہتا ہے اس کے علاوہ ماہ صفر میں ایک خمسۂ مجالس و شب بیداری اور اس کے علاوہ ایام عزا میں مختلف پروگرام ہوتے ہیں۔
بڑا گھر :
بڑا گھر باڑہ ہندوراؤ پرانی دہلی میں واقع ہے ایام عزا میں یہاں پر عشرۂ مجالس و خمسۂ مجالس اور دیگر پرگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ادارۂ امام عصر : ۔ ادارۂ امام عصر یہ نیا مصطفی آباد قبرستان کے برابر میں واقع ہے یہ پرنا مصطفی آباد سے پہلے پڑتا ہے یہاں بھی ایام عزا میں مجالس و جلوس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے محرم الحرام کی پہلی تاریخ سے دس محرم تک مسلسل مجالس ہوتی ہیں اس کے بعد ایک عشرۂ مجالس ماہ ِ صفر میں اور اس کے علاوہ متعدد پرگرام مختلف تواریخ میں منعقد ہوتے ہیں۔
ان مقامات کے علاوہ مسجد امام حسن عسکری سندر نگری مسجد شیعیان علی حوض سوئیوالان مسجد شریں کھجوری عزاخانہ باب المراد دیلکم عزا خانہ بیت المراد بور الہی کالونی مسجد فروغ ایمان خوریجی ترلوک پوری کھچڑی پور، منگلول پوری، کربلا کوٹلہ میور وہار، نانگلوئی ، برج پوری، کشن گنج، عزاخانہ صولت حسین سوئیوالان، بر مکان لیاقت علی نبی کریم وغیرہ میں بھی ایام عزا میں عشرۂ مجالس و خمسہ مجالس و جلوس کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کے علاوہ شہر دہلی میں ایام عزا میں ہر اتوار کو دہلی کے کسی نہ کسی علاقہ میں جلوس عزا کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اس علاقہ کے مختلف راستوں سے گذر کر اپنے معین مقام پر اختتام پزیر ہوتا ہے بعض اتوار کو کئی کئی مقامات پر جلوس برآمد ہوتے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
سلام
سید آفاق عالم زیدی
تیرا چہلم منانے آئے ہیں
یہ جہاں کو بتانے آئے ہیں
بند کرلو دکانیں بدعت کی
آنسؤں سے بہانے آئے ہیں
کیسے رک جائے ماتم شبیرؑ
اس پہ جانیں لٹانے آئے ہیں
کمسنی کہہ رہی تھی مقتل میں
حرملہ کو مٹانے آئے ہیں
ہو گیا سر جدا مگر قرآں
نیزے پہ بھی سنانے آئے ہیں
پرچم جیت ظلم کے گھر میں
ابن سرور لگانے آئے ہیں
منظر کربلا ہے نظروں میں
خود بھی رونے رلانے آئے ہیں
جگر مجتبی دل فرویٰ
یہ بھی خوں میں نہانے آئے ہیں
ہاں ضعیفی میں حضرت شبیرؑ
لاش اکبرؑ اٹھانے آئے ہیں
یہ عزادار کربلاآفاق
اپنی بگڑی بنانے آئے ہیں
قطعہ
یہ جو اسلام پہ جوانی ہے
شہ کے کمسن کی مہربانی ہے
ڈھونڈ تا ہے کہیں ملے اصغر
اس لئے ہر جگہ پہ پانی ہے
قطعہ
صفحۂ ظلم پہ گر حرملہ لکھا جائے
کمسنی سے تھا اسے ہارنالکھا جائے
تیری دہلیز سے اصغر کوئی خالی نہ گیا
کس بلندی پہ تیرا مرتبہ لکھا جائے
قطعہ
اپنے نزدیک وفاؤں کے رسالے رکھنا
ہر طرف عشق کے اور پیار کے حالے رکھنا
ہر گھڑی عون و محمد سے کہا زینب نے
پیش زہراء میری عزت کو سنبھالے رکھنا
قطعہ
اس طرح پسپا کیا کہ شہ نے چھوڑ ے ہی نہیں
راستے ہموار بعد کربلا بد کے لیئے
حضرت شبیر لاشے جون پر کچھ یوں جھکے
جیسے کعبہ جھک گیا ہو حجر اسود کے لیئے
قطعہ
دست نورانی سے سرور نے لکھا تھا اس کو
اس لئے بس اسی تحریر پہ قربان ہوئے
دوستی کیا ہے سمجھ لے یہ زمانہ یوں حبیب
کربلا آن کے شبیر پہ قربان ہوئے
|
ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کی فرہنگی و اجتماعی خدمات :
|
|
ڈاکٹرخواجہ پیری نے ہندوستان میں مسلمانوں کے علمی آثار اور بالخصوص خطی آثار کی حفاظت میں کافی جد وجہد کی ہے ، اسی طرح ہندوستان کے تاریخی اور ثقافتی شہر آگرہ میں مدفون شیعہ عالم محدث قاضی نور اللہ شوشتریؒ کے مرقد کی مرمت اور تعمیر کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے ۔اور اسی کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی اور ثقافتی مراکز کی تعمیر کیلئے جدو جہد میں مشغول ہیں ، خدا وندعالم ان کو اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ شہید قاضی نور اللہ شوشتریؒ کی شخصیت محتاج تعار ف نہیں یہ وہ بلند پایہ عالم تھے کہ جنہیں شیعہ فقہ کے ساتھ ساتھ فقہ اہل سنت پر بھی مکمل تسلط حاصل تھا ۔ آپ کے علمی آثار میں ‘‘احقاق الحق اور مجالس المؤمنین ’’ قابل ذکر اور نایاب نمونے ہیں۔
|
|
بسمہ تعالیٰ رکنیت فارم الجواد فاؤنڈیشن میں رکنیت حاصل کرنے کے خواہشمند حضرات اس رکنیت فارم کو پر کرکے درج ذیل ایڈریس پر ارسال کرسکتے ہیں ، رکنیت حاصل کرنے کے بعد ہر رکن کو مجلہ انوارولایت کے اعزازی شمارے اور دیگر دینی کتب بھیجی جائیں گی ۔ _______________________ولدیت : _____________________نام : ___________________تعلیم : ________________شغل ، پیشہ : ______________________________________________ایڈریس : ______________________ای میل : ______________________فون نمبر: نوٹ : سالانہ رکنیت فیس 250روپیہ انڈین
الجواد فاؤنڈیشن ھندوستان شعبہ مشہد مقدس رابطہ کیلئے ہندوستان: سید مناظر حسین نقوی ، نیو کالونی ، نزد ہری مزار ، سرفراز گنج ، ہر دوئی روڈ لکھنؤ موبائل :09839821820 ،09935200830 ایران : سید مناظرحسین نقوی ، سی متری طلاب خیابان شہید مفتح ۸بلاک 325 مشہد مقدس ، جمہوری اسلامی ایران فون نمبر: 05112214823،09155100531 هذا البريد الإلكتروني محمي من المتطفلين و برامج التطفل، تحتاج إلى تفعيل جافا سكريبت لتتمكن من مشاهدته ای میل:
|













