با جماعت کا حکم نمازوں
مسئلہ ١۴٠٧ مستحب هے کہ واجب نمازوں خصوصا پنچگانہ نمازوں کو باجماعت پڑها جائے
اورصبح اور عشا کی نماز ميں اور مسجد کے پڑوس ميں رهنے والے کے لئے اور اس شخص کے لئے
جو اذان کی آواز سن رها هو نماز جماعت کی بہت تاکيد کی گئی هے اور اسی طرح بعض روایات کے
مطابق نماز مغرب با جماعت پڑهنے کی بهی بہت تاکيد کی گئی هے۔
مسئلہ ١۴٠٨ نمازجماعت فرادیٰ نمازسے چوبيس ( ٢۴ )درجہ افضل هے اور پچيس( ٢۵ )نمازوں کے
برابرهے اور بعض روایات ميں اس طرح آیا هے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:”جو شخص نماز
جماعت پڑهنے کے لئے کسی مسجد ميں جائے تو هر قدم کے بدلے اس کو ستر ہزار حسنہ مليں گے اور
اسی طرح ستر ہزار درجات بهی مليں گے اور اگر وہ ایسی حالت ميں مرجائے تو خداوند عالم اس کے اوپر
ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا هے کہ اس کی قبر پر جائيں اور اس کو جنت کی خوشخبری دیں اور قبر کی
تنهائی ميں اس کے مونس ویاور هوں اور اس کے لئے اس دن تک استغفار کریں جس دن اس کو قبر سے
اٹهایا جائے گا۔
مسئلہ ١۴٠٩ لا پرواهی کی وجہ سے نماز جماعت ميں حاضر نہ هونا جائز نهيں هے اور بغير
کسی عذر کے نماز جماعت کو ترک کرنا سزاوار نهيں هے۔
مسئلہ ١۴١٠ مستحب هے کہ انسان صبر کرے تاکہ نمازبا جماعت پڑهے اور جب تک نماز کی
فضيلت کا وقت باقی هو، نماز جماعت اس فرادیٰ نمازسے بہتر هے جو اول وقت ميں پڑهی جا رهی هو اور
اسی طرح وہ نماز جماعت جو مختصر طور پر پڑهی جارهی هو اس فرادیٰ نمازسے بہتر هے جو طول
دے کر پڑهی جارهی هو۔
مسئلہ ١۴١١ جس شخص نے اپنی نماز پڑه لی هو اس کے لئے مستحب هے کہ جب جماعت
قائم هو تو وہ اپنی نماز دوبارہ جماعت کے ساته پڑهے اور اگر نماز کے بعد اسے یہ معلوم هوجائے کہ اس
کی پهلی نمازباطل تهی تو دوسری نماز اس کے لئے کافی هے۔
مسئلہ ١۴١٢ اگر پيش امام یا مقتدی ایک نماز جماعت کے ساته پڑهنے کے بعد دوبارہ اپنی نماز کو
جماعت کے ساته پڑهنا چاهيں تو اگر پهلی والی نمازباطل هونے کا احتمال نہ هو تو جائز نهيں هے، البتہ
اگر دوسری جماعت ميں امام بن کر نماز پڑهائے اور اقتدا کرنے والوں ميں ایسے افراد بهی هو ں جنهوں
نے ابهی تک واجب نماز نہ پڑهی هو تو امام کے لئے دوبارہ نمازپڑهنا مستحب هے۔
مسئلہ ١۴١٣ جس شخص کو نماز ميں اس قدر وسوسہ هوتا هو کہ اس کی نماز باطل هو جاتی هو
اور صرف جماعت کے ساته نماز پڑهنے سے اس کا وسوسہ دور هوتا هو تو ضروری هے کہ نماز
باجماعت پڑهے اور اگر وسوسہ سے نماز باطل نهيں هوتی تب بهی احتياط واجب یہ هے کہ نمازجماعت
کے ساته پڑهے۔
مسئلہ ١۴١۴ اگر ماںباپ اپنے بيٹے کو حکم دیں کہ وہ نمازکو جماعت کے ساته پڑهے تو
نمازجماعت سے نہ پڑهنا اگر ماں یا باپ کی اذیت کا سبب بنتا هو تو ان کی مخالفت حرام هے۔
مسئلہ ١۴١۵ مستحب نماز جماعت کے ساته نهيں پڑهی جا سکتی، ليکن نماز استسقا جو کہ بارش
آنے کے لئے پڑهتے هيں، اسے جماعت کے ساته پڑه سکتے هيں۔ اسی طرح وہ نمازجو پهلے واجب رهی
هو اور بعد ميں کسی وجہ سے مستحب هوگئی هو جيسے عيد فطر اور عيد قربان کی نمازکہ جو امام عليہ
السلام کے زمانے ميں واجب تهی اور غيبت کی وجہ سے مستحب هو گئی هے اس کا بهی یهی حکم هے۔
مسئلہ ١۴١۶ جب امام نماز پنجگانہ ميں سے کوئی نمازجماعت کے ساته پڑه رها هو تو اس کے
پيچهے نماز پنجگانہ ميں سے کوئی بهی نماز پڑهی جاسکتی هے۔
مسئلہ ١۴١٧ اگر امام اپنی یا کسی دوسرے شخص کی نمازپنجگانہ قضا پڑه رها هو اور اس نمازکا
قضا هونا بهی یقينی هو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی هے ليکن اگر امام احتياطا قضا پڑه رها هو تو اس کی
اقتدا کرنا جائز نهيں هے مگر یہ کہ ماموم بهی احتياطاً نماز پڑه رها هو اور دونوں کی احتياط کا سبب بهی
ایک هی هو۔
مسئلہ ١۴١٨ اگر انسان نہ جانتا هو کہ کوئی شخص جو نماز پڑه رها هے وہ یوميہ واجب نمازهے
یا کوئی مستحب نماز هے تو اس کے پيچهے اقتدا نهيں کر سکتا۔
مسئلہ ١۴١٩ نمازجماعت کے صحيح هونے کے لئے یہ شرط هے کہ امام اور مقتدی کے درميان
اور اسی طرح ایک ماموم او ر دوسرے ایسے ماموم کے درميان جو امام اور ماموم کے درميان واسطہ
هے کوئی ایسی چيز حائل نہ هو جو دیکهنے ميں رکاوٹ هو۔ مثلاًپردہ یا دیوار وغيرہ پس اگر نمازکی تمام
یا بعض حالتوں ميں امام او رماموم یا ماموم اور ایسے دوسرے ماموم کے درميان جو اتصال کا ذریعہ هو
کوئی چيز حائل هو تو نماز جماعت باطل هے اور جيسا کہ بعد ميں بيان کيا جائے گا عورت اس حکم سے
مستثنی هے۔
مسئلہ ١۴٢٠ اگر پهلی صف لمبی هونے کی وجہ سے اس کے دونوں اطراف کهڑے هوئے
اشخاص امام جماعت کو نہ دیکه سکيں تب بهی ان کی جماعت صحيح هے اور اسی طرح کسی بهی صف
کی لمبائی کی وجہ سے اس کے دونوں طرف کهڑے هوئے اشخاص اگر اپنی اگلی صف کو نہ دیکه سکيں
تو ان کی بهی جماعت صحيح هے۔
مسئلہ ١۴٢١ اگر جماعت کی صفيں مسجد کے دروازے تک پهنچ جائيں تو جو شخص دروازے پر
صف کے پيچهے کهڑا هو اس کی نماز صحيح هے۔ اور ان لوگوں کی نماز بهی صحيح هے جو اس شخص
کے پيچهے کهڑے هوکر نمازپڑه رهے هوں بلکہ وہ لوگ جو دونوں اطراف ميں کهڑے هيں اور جماعت
سے متصل هيں، ان کی بهی نمازصحيح هے۔
مسئلہ ١۴٢٢ جو شخص ستون کے پيچهے کهڑا هو اگر وہ دائيں یا بائيں جانب سے کسی مقتدی کے
ذریعے امام سے متصل نہ هو تو وہ اقتدا نهيں کرسکتا۔
مسئلہ ١۴٢٣ ضروری هے کہ امام کے کهڑے هونے کی جگہ ماموم کی جگہ سے اونچی نہ هو
ليکن اگر معمولی سی مثلاً ایک بالشت سے کم اونچی هو تو کوئی حرج نهيں هے۔ نيز اگر زمين ڈهلوان
والی هو اور امام اونچی طرف کهڑا هو تو اگر ڈهلوان زیادہ نہ هو اور ا س زمين کو هموار کها جائے تو
کوئی حرج نهيں۔
مسئلہ ١۴٢۴ اگر ماموم کی جگہ امام کی جگہ سے اونچی هوتو کوئی اشکال نهيں البتہ اگر اتنی
اونچی هو کہ اسے جماعت کهنا هی مشکوک هو جائے تو جماعت کا قصد نهيں کيا جاسکتا۔
مسئلہ ١۴٢۵ اگر ایک صف ميں کهڑے هوئے افراد کے درميان کوئی ایسا شخص موجود هو جس
کی نمازباطل هے یا ایسا مميز بچہ موجود هوجس کی نماز صحيح هونے کا علم نہ هو تو اس صورت ميں
کہ دوسرے ماموم کے ذریعے سے اتصال برقرار نہ هو، احتياط واجب کی بنا پر اقتدا نهيں کی جا سکتی
هے۔
مسئلہ ١۴٢۶ امام جماعت کے تکبيرة الاحرام کهنے کے بعد اگر آگے والی صف نماز اور تکبيرة
الاحرام کهنے کے لئے تيار هو تو وہ شخص جو بعد والی صف ميں کهڑا هو وہ تکبيرة الاحرام کہہ سکتا
هے ليکن احتياط مستحب یہ هے کہ وہ انتظار کرے تاکہ وہ شخص یا اشخاص جو آگے والی صف ميں اس
کے اتصال کا ذریعہ هوں تکبير کہہ ليں۔
مسئلہ ١۴٢٧ اگر کوئی شخص یہ جانتا هو کہ آگے والی صفوں ميں سے کسی ایک صف کی
نمازباطل هے تو وہ بعد والی صفوں ميں اقتدا نهيں کرسکتا، ليکن اگر وہ نہ جانتا هو کہ ان کی نمازصحيح
هے یا نهيں تو اقتدا کر سکتا هے۔
مسئلہ ١۴٢٨ جب کسی شخص کومعلوم هوجائے کہ امام جماعت کی نمازباطل هے مثلااسے یہ
معلوم هوجائے کہ امام جماعت نے وضو نهيں کيا هے تو اگرچہ خود امام اس چيز کی طرف متوجہ نہ هو
اس کی اقتدا نهيں کی جاسکتی هے۔
مسئلہ ١۴٢٩ اگر نماز کے بعد ماموم کو یہ علم هو جائے کہ امام جماعت عادل نہ تها یا کافر تها یا
کسی اور وجہ سے اس کی نماز باطل تهی مثلاً اس نے وضو کے بغير نماز پڑه لی تهی تو ماموم کی
نمازاس صورت ميں صحيح هے کہ اس نے کوئی ایسا کام انجام نہ دیا هو جس کی وجہ سے فرادیٰ نماز
باطل هوجاتی هو، جيسے رکوع زیادہ کرنا۔
مسئلہ ١۴٣٠ اگر نماز کے دوران کوئی شخص شک کرے کہ اقتدا کی هے یانهيں تو ضروری هے
کہ وہ نماز کو فرادیٰ کی نيت سے پورا کرے، ليکن اگر کسی وجہ سے اسے اطمينان هوجائے کہ جماعت
کی نيت کی هے تو نماز کو جماعت کی نيت سے پورا کرے۔
مسئلہ ١۴٣١ اگر کوئی شخص نمازجماعت ميں تشهد کے دوران اور امام کے سلام کهنے سے
پهلے فرادیٰ نماز کی طرف عدول کرنا چاهے تو اگر وہ ابتدا سے عدول کی نيت سے نہ رکهتا هو توکوئی
حرج نهيں هے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عذر رکهتا هو تو وہ تشهد سے پهلے تک عدول کر سکتا هے،
ليکن ان دو صورتوں کے علاوہ عدول کرنا محل اشکال هے، خواہ وہ ابتدا سے عدول کی نيت رکهتا هویا
نماز کے دوران عدول کی نيت کرے، البتہ اگر وہ فرادیٰ شخص کے وظيفے پر عمل کرے تو اس کی نماز
صحيح هے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرائت کا موقع گزر جانے کے بعد فرادیٰ نماز کی طرف عدول
کرے اور ابتدا سے فرادیٰ کا قصد نہ رکهتا هو تو اس کی نماز قرائت چهوڑنے کے اعتبار سے صحيح
هے۔
مسئلہ ١۴٣٢ اگر مقتدی امام کی الحمد اور سورہ ختم هونے سے پهلے نمازفرادیٰ کی نيت کرے تو
خواہ امام الحمد یا سورہ کا کچه حصہ پڑه چکا هو، ضروری هے کہ مقتدی الحمد اور سورہ دوبارہ پڑهے۔
اور اسی طرح اگر امام کی الحمد اورسورہ ختم هونے کے بعد اور رکوع ميں جانے سے پهلے اگر وہ
فرادیٰ کی نيت کرے تب بهی احتياط واجب کی بنا پر ضروری هے کہ الحمد اور سورہ دوبارہ پڑهے۔
مسئلہ ١۴٣٣ اگر کوئی شخص نمازجماعت کے ساته فرادیٰ کی نيت کرے تو دوبارہ جماعت کی
نيت نهيں کرسکتا، البتہ اگر وہ متردد هوجائے کہ فرادیٰ کی نيت کرے یا نهيں تو اگر چہ وہ بعد ميں
نمازجماعت کے ساته تمام کرنے کا مصمم ارادہ بهی کر لے، اس کی جماعت محل اشکال هے۔
مسئلہ ١۴٣۴ اگر کوئی شخص شک کرے کہ نماز کے دوران اس نے فرادیٰ کی نيت کی هے یا
نهيں تو ضروری هے کہ وہ یہ سمجهے کہ ا س نے فرادیٰ کی نيت نهيں کی هے۔
مسئلہ ١۴٣۵ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں هو اور وہ امام کے رکوع
ميں پهنچ جائے تو خواہ امام نے رکوع کا ذکر پڑه ليا هو اس کی نماز اور جماعت دونوں صحيح هيں اور
یہ ایک رکعت شمار هوگی، البتہ اگر وہ رکوع کی مقدار تک جهکے ليکن امام کے رکوع ميں نہ پهنچ
سکے تو اس کی نماز باطل هے۔
مسئلہ ١۴٣۶ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں هو اور وہ رکوع کی مقدار
تک جهکے اور شک کرے کہ امام کے رکوع ميں پهنچا هے یا نهيں تو اس کی نماز باطل هے۔
مسئلہ ١۴٣٧ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع ميں هو اور اس سے پهلے کہ
رکوع کی حد تک جهکے امام رکوع سے سر اٹهالے تو ضروری هے کہ امام کے ساته هی سجدے ميں
جائے اور امام کی اگلی رکعت کو اپنی پهلی رکعت قرار دے اور احتياط واجب یہ هے کہ امام کی پيروی
کے بعد جب (اگلی رکعت کے لئے) کهڑا هو تو قربت مطلقہ کی نيت سے، جو چاهے تکبيرة الاحرام هو یا
ذکر، تکبير کهے۔
مسئلہ ١۴٣٨ اگر کوئی شخص نماز کی ابتدا هی سے یا الحمد اور سورے کے درميان اقتدا کرے
اور رکوع کی مقدار ميں جانے سے پهلے هی امام اپنا سر رکوع سے اٹها لے تو اگر وہ تاخير کرنے ميں
عذر رکهتاهو تو اس کی نماز اور جماعت صحيح هيں۔
مسئلہ ١۴٣٩ اگرکوئی شخص جماعت کے لئے اس وقت پهنچے جب امام جماعت کا آخری تشهد
پڑه رها هو اور وہ شخص یہ چاہتا هو کہ جماعت کا ثواب حاصل کرے تو ضروری هے کہ اقتدا کی نيت
اور تکبيرة الاحرام کهنے کے بعد بيٹه جائے اور تشهد کو احتياط واجب کی بنا پر قربت مطلقہ کی نيت سے
واجب تشهد یا ذکر کی نيت کے بغير امام کے ساته پڑهے، ليکن سلام نہ پهيرے اور انتظار کرے تاکہ امام
نماز کا سلام پڑه لے۔ اس کے بعد وہ شخص کهڑا هو جائے اور دوبارہ نيت اور تکبيرة الاحرام کهے بغير
الحمد اور سورہ پڑهے اور اسے اپنی نماز کی پهلی رکعت شمار کرے۔
مسئلہ ١۴۴٠ ضروری هے کہ ماموم امام سے آگے نہ کهڑا هو اور اگر ماموم صرف ایک شخص
هوتو احتياط واجب یہ هے کہ وہ امام کی دائيں جانب کهڑا هو اوراس کا امام کے پيچهے کهڑا هونا
ضروری نهيں هے۔ هاں، اگر کسی شخص کا قد امام سے بلند هو تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری هے
کہ وہ اس طرح کهڑا هو کہ رکوع اور سجدے ميں امام سے آگے نہ هو اور اگر مامومين زیادہ هوں تو اس
کا حکم ”مسئلہ ١۴٨٨ “ميں بيان کياجائے گا۔
مسئلہ ١۴۴١ اگر امام مرد اور ماموم عورت هو تو اگر اس عورت اور امام کے درميان یا اس
عورت اور دوسرے مقتدی مرد کے درميان جو اس عورت کے اتصال کا ذریعہ هے، کوئی پردہ یا اس
جيسی کوئی دوسری چيز حائل هو تو کوئی حرج نهيں هے۔
مسئلہ ١۴۴٢ اگر نماز جماعت شروع هونے کے بعد امام اور ماموم کے درميان یا امام اور اس
شخص کے درميان جو امام سے اتصال کا ذریعہ هو پردہ یا کوئی اور چيز حائل هوجائے تو جماعت باطل
هے اور اس کی نماز فرادیٰ هوجائے گی اور ضروری هے کہ وہ فرادیٰ نمازپڑهنے والے کے وظيفے پر
عمل کرے۔
مسئلہ ١۴۴٣ اقوی یہ هے کہ مقتدی کے سجدے کی جگہ اور امام کے کهڑے هونے کی جگہ کے
درميان ایک بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ هو۔ اسی طرح اگر انسان ایک ایسے مقتدی کے واسطے سے جو
اس کے آگے کهڑا هو اما م سے متصل هو تب بهی یهی حکم هے (یعنی ایک لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ
هو)اور احتياط مستحب یہ هے کہ ماموم کے سجدے کی جگہ او راس سے آگے کهڑے هونے والے شخص
کی جگہ کے درميان کوئی فاصلہ نہ هو۔
مسئلہ ١۴۴۴ اگر ماموم ایک ایسے شخص کے ذریعے سے امام سے متصل هو جس نے اس کی
دائيں یا بائيں سمت ميں اقتدا کی هے اور سامنے سے امام سے متصل نہ هو تو احتياط واجب کی بنا پر اس
شخص سے جو اس کی دائيں یا بائيں سمت کهڑ اهو ایک بڑے قدم سے زیادہ فاصلہ نہ رکهے۔
مسئلہ ١۴۴۵ اگر نماز کے دوران امام اور ماموم کے درميان یا ماموم اور دوسرے مامو م کے
درميان جو اس کے سامنے کهڑا هے ایک لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ هوجائے توجماعت باطل هے اور
ضروری هے کہ فرادیٰ کی نيت کرے اور نماز کو فرادیٰ پڑهے۔ اسی طرح اگر ایک ماموم اور دوسرے
ایسے ماموم کے درميان جو اس کے دائيں یا بائيں جانب کهڑا هے اور امام سے اتصال کا ذریعہ هے ایک
لمبے قدم سے زیادہ فاصلہ هوجائے تب بهی بنابر احتياط و اجب یهی حکم هے۔
مسئلہ ١۴۴۶ اگر اگلی صف ميں کهڑے هوئے تمام لوگوں کی نمازختم هوجائے اور بعد والی صف
ميں کهڑے هوئے لوگوں کے درميان اور جن کی نماز تمام هوئی هے ان سے اگلی صف ميں کهڑے هوئے
لوگوں کے درميان کا فاصلہ ایک بڑے قدم کے برابریا اس سے کم هو تو جن لوگوں کی نماز ختم هوئی
هے اگر وہ فورا دوسری نمازکے لئے اما م کی اقتدا کر ليں تو بعد والی صف کی جماعت صحيح هے اور
اگر مذکورہ مقدار سے زیادہ فاصلہ هو تو بعد والی صف کی جماعت باطل هے اور ان کی نمازفرادیٰ
هوجائے گی۔
مسئلہ ١۴۴٧ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا ء کرے جب امام کی دوسری رکعت هو تو اس سے
الحمد اور سورہ ساقط هيں اور ضروری هے کہ اما م سے پهلے رکوع ميں نہ جائے اور یہ بهی ضروری
هے کہ امام کے تشهد سے پهلے کهڑا نہ هو اور وہ شخص قنوت اور تشهد امام کے ساته پڑه سکتا هے اور
احتياط واجب یہ هے کہ اما م کے تشهد کے وقت اپنی هاته کی انگليوں اور پاؤں کے تلوے کے اگلے
حصے کو زمين پر رکهے اور اپنے گهٹنوں کو اٹهالے اور ضروری هے کہ امام کے ساته کهڑا هو اور
الحمداور سورہ پڑهے اور اگر سورہ پڑهنے کا وقت نہ هوتو الحمد کو تمام کرے اور امام کے رکوع ميں
پهنچ جائے اور اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ کا قصد کرے۔
مسئلہ ١۴۴٨ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام چار رکعتی نمازکی دوسری رکعت ميں
هو تو ضروری هے کہ اپنی نماز کی دوسری رکعت ميں جو کہ امام کی تيسری رکعت هے، دو سجدے
کرنے کے بعدبيٹه جائے اور واجب مقدار کی حد تک تشهد پڑه کر کهڑا هوجائے اور اگر تين مرتبہ
تسبيحات اربعہ نہ پڑه سکتا هو تو ایک مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑه کر امام کے رکوع ميں پهنچ جائے اور
اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ پائے تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ نماز کا قصد کرے۔
مسئلہ ١۴۴٩ اگر امام تيسری یا چوتهی رکعت ميں مشغول هو اور ماموم یہ جانتاهو، بلکہ صرف
احتمال دے رها هوکہ اگر وہ اقتدا کرلے اور الحمد پڑهے تو امام کے رکوع ميں نهيں پهنچ پائے گا تو
احتياط واجب کی بنا پر ضروری هے کہ انتظار کرے تاکہ امام رکوع ميں چلا جائے اور اس کے بعد اقتدا
کرے۔
مسئلہ ١۴۵٠ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام تيسری یا چوتهی رکعت کے قيام ميں
هو تو ضروری هے کہ الحمد اور سورہ پڑهے اور اگر سورہ کے ليے وقت نہ هو تو ضروری هے کہ صر
ف الحمد پڑهے اورامام کے رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر کوئی رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو احتياط واجب
کی بنا پر فرادیٰ نماز کا قصد کرے۔
مسئلہ ١۴۵١ جو شخص جانتا هو کہ اگر وہ سورہ یا قنوت کو تما م کرے تو امام کے رکوع ميں
نهيں پهنچ سکے گا اور وہ عمداسورہ یا قنوت پڑهے اور رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو اس کی نماز صحيح
هے، ليکن ضروری هے کہ فرادیٰ شخص کے وظيفے کے مطابق عمل کرے۔
مسئلہ ١۴۵٢ جس شخص کو اطمينان هو کہ اگر سورہ شروع کرے یا اسے تما م کرے تو امام کے
رکوع ميں پهنچ جائے گا تو احتياط واجب یہ هے کہ سورہ شروع کرے یا اگر شروع کر ليا هوتو اسے
مکمل کرے، ليکن اگر امام کے رکوع ميں نہ پهنچ پارها هو توسورہ شروع کرنے کی صورت ميں
ضروری هے کہ اسے تمام نہ کرے۔
مسئلہ ١۴۵٣ جو شخص یقين رکهتا هو کہ اگر وہ سورہ پڑهے تو امام کے رکوع ميں پهنچ جائے گا
اور سورہ پڑهے لے اور اما م کے رکوع ميں نہ پهنچ سکے تو اس کی جماعت صحيح هے۔
مسئلہ ١۴۵۴ اگر امام قيام کی حالت ميں هو اور ماموم یہ نہ جانتا هو کہ وہ کون سی رکعت ميں هے
تو وہ اقتدا کر سکتا هے، ليکن احتياط واجب یہ هے کہ الحمد اور سورہ جزء نماز یا قرائت قرآن کی عمومی
نيت کے ساته پڑهے، اگر چہ بعد ميں معلوم هو جائے کہ امام کی پهلی یا دوسری رکعت تهی۔
مسئلہ ١۴۵۵ اگر کوئی شخص اس خيال سے کہ امام پهلی یا دوسری رکعت ميں هے الحمد او
رسورہ نہ پڑهے اور رکوع کے بعد اسے یہ معلوم هوجائے کہ امام تيسری یا چوتهی رکعت ميں تها تو اس
کی نماز صحيح هے، ليکن اگر رکوع سے پهلے یہ معلوم هو جائے کہ امام تيسری یا چوتهی رکعت ميں
هے تو ضروری هے کہ الحمد اور سورہ پڑهے اور وقت کم هونے کی صورت ميں صرف الحمد پڑهے
اور رکوع ميں پهنچ جائے اور اگر الحمد پڑهنے کا بهی وقت نہ هو تو احتياط واجب کی بنا پر فرادیٰ نماز
کا قصد کرے۔
مسئلہ ١۴۵۶ اگر کوئی شخص اس خيال سے کہ امام تيسری یا چوتهی رکعت ميں هے الحمد یا
سورہ پڑه لے اور رکوع سے پهلے یا اس کے بعد اسے یہ معلوم هو جائے کہ امام پهلی یا دوسری رکعت
ميں تها تو اس کی نمازصحيح هے اورا گر الحمد اور سورہ پڑهنے کے درميان یہ معلوم هو جائے تو
ضروری هے کہ بقيہ حصہ نہ پڑهے۔
مسئلہ ١۴۵٧ اگر کوئی شخص مستحب نمازپڑه رهاهو اورجماعت کهڑی هو جائے اور اسے یہ
اطمينان نہ هوکہ اگر نماز کو تمام کر لے تو جماعت کو پا لے گا تو مستحب هے کہ وہ شخص مستحب نماز
کو چهوڑ دے اور جماعت ميں شریک هوجائے، بلکہ اگر اسے یہ اطمينان نہ هو کہ پهلی رکعت ميں شریک
هوسکے گا تب بهی مستحب هے کہ اسی حکم پر عمل کرے۔
مسئلہ ١۴۵٨ اگر کوئی شخص تين رکعتی یا چار رکعتی نمازپڑه رهاهو اور جماعت قائم هوجائے،
تو اگر ابهی تيسری رکعت کے رکوع ميں نہ گيا هو اور اسے یہ اطمينان نہ هو کہ اگر نماز کو تمام کرلے
تو جماعت ميں شریک هو جائے گا، مستحب هے کہ وہ شخص مستحب نماز کی نيت سے اپنی نماز کو دو
رکعت پر تمام کرے اور جماعت ميں شریک هوجائے۔
مسئلہ ١۴۵٩ اگر امام کی نماز ختم هو جائے اور ماموم تشهد یا پهلا سلام پڑهنے ميں مشغول هو تو
ضروری نهيں کہ فرادیٰ نماز کی نيت کرے۔
مسئلہ ١۴۶٠ اگر کوئی شخص امام سے ایک رکعت پيچهے هو اور جس وقت امام آخری رکعت کا
تشهد پڑه رها هو وہ فرادیٰ نماز کا قصد نہ کرے تو احتياط واجب کی بنا پر ضروری هے کہ اپنی انگليوں
اور پاؤں کے تلووں کا اگلا حصہ زمين پر رکهے اور گهٹنوں کو اٹها کررکهے اور امام کے سلام پڑهنے
کا انتظا ر کرے اور اس کے بعد کهڑا هوجائے اور اگر اسی وقت فرادیٰ نماز کا قصد کرنا چاهے تو کوئی
حرج نهيں هے، ليکن اگر ابتدا هی سے فرادیٰ کا قصد تها تو محل اشکال هے













